آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 275
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۷۵ آئینہ کمالات اسلام اور ایسوں کی ہی وہ اکثر اور اغلب طور پر باتیں مانتا ہے اور دعائیں قبول کرتا (۲۷۵) ہے تو پھر فیصلہ نہایت آسان ہے اور ہم اس کلمہ مذکورہ میں ہر یک صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں ہمارے نزدیک بھی یہ بیچ ہے کہ بچے اور جھوٹے میں اسی دنیا میں کوئی ایسا ما بہ الامتیاز قائم ہونا چاہیئے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو یوں تو کوئی اپنی قوم کو دوسری قوموں سے خدا ترسی اور پر ہیز گاری اور توحید اور عدل اور انصاف اور دیگر اعمال صالحہ میں کم نہیں سمجھے گا پھر اس طور سے فیصلہ ہونا محال ہے اگر چہ ہم کہتے ہیں کہ اسلام میں وہ قابل تعریف باتیں ایک بے نظیر کمال کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے اسلام کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے مثلاً جیسے اسلام کی تو حید اسلام کے تقویٰ اسلام کے قواعد حفظان عفت حفظان حقوق جو عملاً واعتقادا کروڑ با افراد میں موجود ہیں اور اس کے مقابل پر جو کچھ ہمارے مخالفوں کی اعتقادی اور عملی حالت ہے وہ ایسی شے ہے جو کسی منصف سے پوشیدہ نہیں لیکن جبکہ تعصب درمیان ہے تو اسلام کی ان خوبیوں کو کون قبول کر سکتا ہے اور کون سن سکتا ہے سو یہ طریق نظری ہے اور نہایت بدیہی طریق جو دیہات کے ہل چلانے والے اور جنگلوں کے خانہ بدوش بھی اس کو سمجھ سکتے ہیں یہ ہے کہ اس جنگ و جدل کے وقت میں جو تمام مذاہب میں ہو رہا ہے اور اب کمال کو پہنچ گیا ہے اسی سے مدد طلب کریں جس کی راہ میں یہ جنگ و جدل ہے جبکہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور در حقیقت اسی کے بارے میں یہ سب لڑائیاں ہیں تو بہتر ہے کہ اسی سے فیصلہ چاہیں ۔ اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میری یہ حالت ہے کہ میں صرف اسلام کو سچا مذہب سمجھتا ہوں اور