آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 271
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۷۱ آئینہ کمالات اسلام کیونکر ظاہری خلیفہ ہو سکتا ہے اور یہ کہنا کہ وہ مہدی سے بیعت کرے گا اور اس کا ﴿۲۷﴾ تابع ہوگا اور نوکروں کی طرح اس کے کہنے سے تلوار اٹھائے گا عجب بے ہودہ باتیں ہیں نہیں حضرات خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو ہدایت دے مسیح موعود کی روحانی خلافت ہے دنیا کی بادشاہتوں سے اس کو کچھ تعلق نہیں اس کو آسمانی بادشاہت دی گئی ہے اور آج کل یہ زمانہ بھی نہیں کہ تلوار سے لوگ سچا ایمان لا سکیں ۔ آج کل تو پہلی تلوار پر ہی نادان لوگ اعتراض کر رہے ہیں چہ جائیکہ نئے سرے ان کو تلواروں سے قتل کیا جائے ہاں روحانی تلوار کی سخت حاجت ہے سو وہ چلے گی اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا اب ہم اس مقدمہ کو ختم کرتے ہیں لیکن ذیل میں ایک روحانی تلوار مخالفوں پر چلا دیتے ہیں اور وہ یہ ہے ۔ لئے اور ہر ایک دکھ سے راحت پانے کیلئے خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں اور وہ نجات صرف ایمان سے ہی ملتی ہے کیا دنیا کا عذاب اور کیا آخرت کا دونوں کا علاج ایمان ہے ۔ جب ہم ایمان کی قوت سے ایک مشکل کا حل ہو جانا غیر ممکن نہیں دیکھتے تو وہ مشکل ہمارے لئے حل کی جاتی ہے۔ ہم ایمان ہی کی قوت سے خلاف قیاس اور بعید از عقل مقاصد کو بھی پالیتے ہیں ۔ ایمان ہی کی قوت سے کرامات ظاہر ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں ۔ اور انہونی باتیں ہو جاتی ہیں ۔ پس ایمان ہی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے خدا فلسفیوں سے پوشیدہ رہا اور حکیموں کو اس کا کچھ پتہ نہ لگا۔ مگر ایمان ایک عاجز دلق پوش کو خدا تعالیٰ سے ملا دیتا ہے اور اس سے باتیں کرا دیتا ہے مومن اور محبوب حقیقی میں قوت ایمانی دلالہ ہے۔ یہ قوت ایک مسکین ذلیل خوار مرد و د خلائق کو اس قصر مقدس تک جو عرش اللہ ہے پہنچا دیتی ہے اور تمام پر دوں کو اٹھاتی اٹھاتی دلآرام از لی کا چہرہ دکھا دیتی ہے سو اٹھو ایمان کو ڈھونڈ و