آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 260

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۰ آئینہ کمالات اسلام (۲۶۰) ایسا زمانہ آیا کہ مولویوں نے اپنے بھائی مسلمان کو کافر کہہ دینا اور ہمیشہ کے لئے جہنمی قرار دے دینا ایک ایسی سہل بات سمجھ لی کہ جیسے کوئی پانی کا گھونٹ پی لے اسی پرانی عادت کی وجہ سے اس عاجز کو بھی انہوں نے کا فر ٹھہرایا سواب میں مامور ہوں جو انہیں لوگوں سے جو آئمة التكفير ہیں یعنی نذیر حسین دہلوی اور شیخ محمد حسین بطالوی اور جوان کے ہم رتبہ اور ہم خیال ہیں مباہلہ کی درخواست کروں لہذا اس فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے ان آئمۃ التکفیر کے نام پر مباہلہ کا اشتہار ذیل میں شائع کیا جاتا ہے ۔ بھی مخفی ہو کہ اس نئے فلسفہ کے طوفان کے وقت اسلام کی کشتی خطر ناک حالت میں تھی اور گودہ کشتی جواہرات اور نفیس مال و متاع سے بھری ہوئی تھی مگر چونکہ وہ تہلکہ انگیز طوفان کے نیچے آ گئی تھی اس لئے اس ناگہانی بلا کے وقت یہی مصلحت تھی اور اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ کسی قدر وہ جواہرات اور نفیس مال کی گٹھڑیاں دریا میں پھینک دی جائیں اور جہاز کو ذرا ہلکا کر کے جانوں کو بچا لیا جائے لیکن اگر آپ نے اس خیال سے ایسا کیا تو یہ بھی خودروی کی ایک گستاخانہ حرکت ہے جس کے آپ مجاز نہیں تھے اس کشتی کا نا خدا خداوند تعالیٰ ہے نہ آپ وہ بار بار وعدہ کر چکا ہے کہ ایسے خطرات میں یہ کشتی قیامت تک نہیں پڑے گی اور وہ ہمیشہ اس کو طوفان اور باد مخالف سے آپ بچاتا رہے گا ۔ جیسا کہ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ، یعنی ہم نے ہی اس کلام کو اتارا اور ہم ہی اس کو بچاتے رہیں گے۔ سو آپ کو چاہیے تھا کہ آپ اس ناخدا کی غیبی ہدایت کی انتظار کرتے اور دلی یقین سے سمجھتے کہ اگر طوفان آ گیا ہے تو اب اس ناخدا کی مدد بھی نزدیک ہے جس کا نام خدا ہے جو مالک جہاز بھی ہے اور نا خدا بھی، پس چاہیے تھا کہ ایسی بے رحمی اور جرات نہ کرتے اور آپ ہی خود مختار بن کر بے بہا جواہرات کے صندوق اور زرخالص کی تھیلیاں اور نفیس اور قیمتی پار چات الحجر : ١٠