آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 260
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۰ آئینہ کمالات اسلام ۲۲۰ ایسا زمانہ آیا کہ مولویوں نے اپنے بھائی مسلمان کو کافر کہہ دینا اور ہمیشہ کے لئے جہنمی قرار دے دینا ایک ایسی سہل بات سمجھ لی کہ جیسے کوئی پانی کا گھونٹ پی لے اسی پرانی عادت کی وجہ سے اس عاجز کو بھی انہوں نے کافر ٹھہرایا سواب میں مامور ہوں جو انہیں لوگوں سے جو ائمة التکفیر ہیں یعنی نذیر حسین دہلوی اور شیخ محمد حسین بطالوی اور جو ان کے ہم رتبہ اور ہم خیال ہیں مباہلہ کی درخواست کروں لہذا اس فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے ان ائمة التکفیر کے نام پر مباہلہ کا اشتہا رذیل میں شائع کیا جاتا ہے ۔ بقیه ح بھی مخفی ہو کہ اس نئے فلسفہ کے طوفان کے وقت اسلام کی کشتی خطرناک حالت میں تھی اور گو وہ کشتی جواہرات اور نفیس مال و متاع سے بھری ہوئی تھی مگر چونکہ وہ تہلکہ انگیز طوفان کے نیچے آ گئی تھی اس لئے اس ناگہانی بلا کے وقت یہی مصلحت تھی اور اس کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ کسی قدر وہ جواہرات اور نفیس مال کی گٹھڑیاں دریا میں پھینک دی جائیں اور جہاز کو ذرا ہلکا کر کے جانوں کو بچا لیا جائے لیکن اگر آپ نے اس خیال سے ایسا کیا تو یہ بھی خودروی کی ایک گستاخانہ حرکت ہے جس کے آپ مجاز نہیں تھے اس کشتی کا نا خدا خدا وند تعالیٰ ہے نہ آپ وہ بار بار وعدہ کر چکا ہے کہ ایسے خطرات میں یہ کشتی قیامت تک نہیں پڑے گی اور وہ ہمیشہ اس کو طوفان اور باد مخالف سے آپ بچاتا رہے گا ۔ جیسا کہ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ یعنی ہم نے ہی اس کلام کو اتارا اور ہم ہی اس کو بچاتے رہیں گے۔ سو آپ کو چاہیے تھا کہ آپ اس نا خدا کی غیبی ہدایت کی انتظار کرتے اور دلی یقین سے سمجھتے کہ اگر طوفان آ گیا ہے تو اب اس نا خدا کی مدد بھی نزدیک ہے جس کا نام خدا ہے جو مالک جہاز بھی ہے اور نا خدا بھی، پس چاہیے تھا کہ ایسی بے رحمی اور جرات نہ کرتے اور آپ ہی خود مختار بن کر بے بہا جواہرات کے صندوق اور زر خالص کی تھیلیاں اور نفیس اور قیمتی پارچات الحجر : ١٠