آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 259
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۹ آئینہ کمالات اسلام کا فر ٹھہر جائے کہ یہود نصاری کی طرح بلکہ ان سے بھی بدتر شمار ہو اور میاں نذیر حسین اور (۲۵۹) شیخ بطالوی اس بات پر راضی ہوں کہ وہ نہ صرف کا فر بلکہ اس کا نام اکفر رکھا جائے یعنی ہمیشہ کی جہنم سے بھی اس کی سزا کچھ زیادہ ہو اہل علم جانتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں بڑے بڑے اختلاف تھے اور ان میں سے کوئی بھی اختلاف سے بچ نہیں سکا نہ صدیق نہ فاروق نہ دوسرا کوئی صحابی بلکہ مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ با وجود اپنی اس جلالت و شان کے جو علماء میں مسلم ہے دینی امور میں تمام جماعت صحابہ سے پچاس مسئلہ میں مخالف تھے اور یہ مخالفت اس کمال تک پہنچ گئی تھی کہ بعض ایسے امور کو وہ حلال جانتے تھے جن کو دوسرے صحابہ حرام قطعی بلکہ صریح فسق سمجھتے تھے اور حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہا اور ان کے گروہ کے لوگ معراج اور رویت باری کے بارے میں دوسرے صحابہ سے بکلی مخالف تھے مگر کوئی کسی کو کا فرنہیں کہتا تھا مگر یہ زمانہ ایک حکمت عملی تھی اور وہ یہ کہ آپ نے ایسے وقت میں یہ تالیفات کیں کہ جب مغربی علوم کے بداثر بہت قوت سے دنیا میں پھیلتے جاتے تھے اور طوفان ضلالت بہت طغیانی پر تھا تو آپ نے نجاست خوروں کے لئے ایک نجاست بطور غذا کے پیش کردی تا وہ اسلام سے باہر نہ جائیں نجاست کھا ئیں بارے اسلام میں تو ر ہیں پس آپ کی نسبت بعض کا یہ مقولہ شاید کسی قدر ٹھیک ہو کہ اگر ایسے لوگوں کے لئے سید صاحب ایسی غذا پیش نہ کرتے تو خدا معلوم وہ کن حیوانات کی قطار میں مل جاتے اگر آپ کی یہی نیت تھی تو پھر بھی میرے نزدیک غلطی سے خالی نہیں کیونکہ آپ کسی کے بد مادہ کو اس کے تقاضائے ظہور سے روک نہیں سکتے ۔ اللہ جل شانه فرماتا ہے ۔ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ ا یعنی ہر ایک شخص اپنی فطرت کے موافق عمل کرتا ہے انسان کو چاہیے کہ مسائل صحیحہ کا معلم ہو چاہے کوئی ان کو قبول کرے یا رد کرے۔ یہی طریق انبیاء ہے نہ یہ کہ دوسرے کو اندھا دیکھ کر اپنی آنکھ بھی پھوڑے۔ شاید آپ کے دل میں یہ عذر بنی اسرآئیل : ۸۵