آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 258
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۸ آئینہ کمالات اسلام (۲۵۸) بد مذہب اور سنت جماعت کے احاطہ سے باہر یقین رکھتا ہے تو پھر مجھے کیوں افسوس کرنا چاہیئے کہ میں کیوں سنت جماعت سے باہر کیا جاتا ہوں درحقیقت اہل سنت والجماعت کہلا نا آج کل کسی خاص فرقہ کا حق تسلیم نہیں کیا گیا ہر یک اپنے زعم میں اہل سنت ہے اور دوسروں کو اس سے خارج کر رہا ہے پس یہ کچھ ایسا جھگڑا نہیں جس کا عنداللہ بہت قدر ہو مگر جزئیات کے اختلاف کی وجہ سے کسی کو جھٹ پٹ کا فر کہہ دینا اور ہمیشہ کے جہنم کا سزاوار اس کو ٹھہرانا یہ امر در حقیقت عند اللہ کوئی سہل اور معمولی بات نہیں بلکہ بہت ہی بڑا ہے اور جائے تعجب ہے کہ ایک شخص کلمہ گو ہو اور اہل قبلہ اور موحد اور اللہ اور رسول کو ماننے والا اور ان سے سچی محبت رکھنے والا اور قرآن پر ایمان لانے والا ہو اور پھر کسی جزئی اختلاف کی وجہ سے وہ ایسا سے شان خدا نظر آتی ہے۔ فلاسفروں کے خیالات کے تابع کرنا چاہا اور گھر کر صلح کے لئے مجبوری ظاہر کی سو میرے خیال میں آپ کی یہ کارروائیاں اس زمانہ کے دجالی فتنوں سے بچا نہیں سکتیں بلکہ اس کی شاخوں میں سے یہ بھی ایک شاخ ہے کیونکہ آپ نے اسلامی قلعہ کے اندر ہو کر دشمنوں کے لئے دروازہ کھول دیا اور مسلمانوں کے ہاتھ پاؤں باندھنے میں کوشش کی تا دشمن بآرام و امن اس شہر میں داخل ہو کر جس طرح چاہیں دست برد کریں اور مسلمان کچھ ہاتھ پیر نہ ہلا سکیں مگر میری یہی رائے ہے کہ آپ نے یہ طریق عمداً اختیار نہیں کیا ۔ بلا شبہ آپ کی نیت بخیر ہو گی ۔ کیونکہ آپ کی تالیفات سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ آپ کے اسلامی خیر خواہ ہونے میں شک نہیں گو آپ کی خیر اندیشی در حقیقت بداندیشی کا کام دے گئی اور یہ قوم کی بدقسمتی ہے کہ ایک مصلح کے پیرا یہ میں وہ ضرر آپ سے مسلمانوں کو پہنچ گیا کہ شاید کوئی مفسد بالجبر بھی ایسا ضرر نہ پہنچا سکتا ۔ شاید آپ یہ عُذر پیش کریں کہ اس طریق کے اختیار کرنے میں ایک