آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 256
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۶ آئینہ کمالات اسلام (۲۵۷) کہ جب چاہے پورے طور پر اپنے ارادات اس میں ڈالتی رہے اور ان ارادات کو خدا تعالیٰ اس دل سے اس دل میں رکھ دیتا ہے غرض یہ سنت اللہ ہے کہ کبھی گذشتہ انبیاء و اولیاء اس طور سے نزول فرماتے ہیں اور ایلیا نبی نے یحیی نبی میں ہو کر اسی طور سے نزول کیا تھا سو مسیح کے نزول کی کچی حقیقت یہی ہے جو اس عاجز پر ظاہر کی گئی اور اگر اب بھی کوئی باز نہ آوے تو میں مباہلہ کے لئے طیار ہوں پہلے صرف اس وجہ سے میں نے مباہلہ سے اعراض کیا تھا کہ میں جانتا تھا کہ مسلمانوں سے ملا عنہ جائز نہیں مگر اب مجھ کو بتلایا گیا کہ جو مسلمان کو کا فرکہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پا کر پھر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے سو میں مامور ہوں کہ ایسے لوگوں سے جو ائمة التکفیر ہیں اور مفتی اور مولوی اور محدث کیوں ڈرتے ہیں اور کیوں اس کے قدموں کے نیچے گرے جاتے ہیں اور کیوں قرآنی آیات کوتا ویلات کے شکنجہ پر چڑھا رہے ہیں۔ افسوس کہ جن باتوں میں سے ایک بات کو بھی ماننا اس امر کو مستلزم ہے کہ اسلام کے سارے عقائد سے انکار کیا جائے ان باتوں کا ایک ذخیرہ کثیرہ آپ نے مان لیا ہے اور طرفہ یہ کہ باوجود انکار معجزات ، انکار ملائک، انکار اخبار غیبی انکار وحی، انکا ر اجابت دعا وغیرہ انکارات کے آپ جابجا یہ بھی مانتے گئے کہ قرآن برحق ، رسول برحق ، اسلام بر حق اور مخالف اس کے سب باطل تو ان متضاد خیالات کے جمع ہونے کی وجہ سے آپ کی تالیفات اُس عجیب حیوان کی مانند ہو گئیں کہ جو ایسا فرض کیا جائے کہ جس کا منہ آدمی کا ہو اور دم بندر کی اور کھال بکرے کی اور نیچے بھیڑئیے کے اور دانت ہاتھی کے کھانے کے اور دکھانے کے اور پھر نہایت افسوس کی جگہ یہ ہے کہ شیعوں کی طرح آپ کے کلام میں تقیہ بھی پایا جاتا ہے چنانچہ اپنی بعض رایوں کے بیان کرنے میں آپ ایک ایسی ذ والوجوہ بات بیان کر جاتے ہیں جس کا کچھ ما حصل معلوم نہیں ہوتا اور شتر مرغ کی طرح