آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 255

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۵ آئینہ کمالات اسلام اور روحانیت نازل ہوئی اور اس میں اور مسیح میں بشدت اتصال کیا گیا گویا وہ ایک ہی جو ہر (۲۵۵) کے دوٹکڑے بنائے گئے اور مسیح کی تو جہات نے اُس کے دل کو اپنا قرار گاہ بنایا اور اُس میں ہو کر اپنا تقاضا پورا کرنا چاہا پس ان معنوں سے اس کا وجود مسیح کا وجود ٹھہرا اور مسیح کے پُر جوش ارادات اس میں نازل ہوئے جن کا نزول الہامی استعارات میں مسیح کا نزول قرار دیا گیا یا در ہے کہ یہ ایک عرفانی بھید ہے کہ بعض گذشتہ کا ملوں کا ان بعض پر جو زمین پر زندہ موجود ہوں عکس توجہ پڑ کر اور اتحاد خیالات ہو کر ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے ظہور کو اپنا ظہور سمجھ لیتے ہیں اور ان کے ارادات جیسے آسمان پر ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ویسا ہی باز نہ تعالیٰ اس کے دل میں جو زمین پر ہے پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسی روح جس کی حقیقت کو اس آدمی سے جو زمین پر ہے متحد کیا جاتا ہے ایک ایسا ملکہ رکھتی ہے طور پر کہتا ہوں کہ اسلام کی اعلی طاقتوں کا مجھ کو علم دیا گیا ہے جس علم کی رو سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام نہ صرف فلسفہ جدیدہ کے حملہ سے اپنے تئیں بچائے گا بلکہ حال کے علوم مخالفہ کو جہالتیں ثابت کر دے گا اسلام کی سلطنت کو ان چڑھائیوں سے کچھ بھی اندیشہ نہیں ہے جو فلسفہ اور طبعی کی طرف سے ہو رہے ہیں اس کے اقبال کے دن نزدیک ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر اس کی فتح کے نشان نمودار ہیں ۔ یہ اقبال روحانی ہے اور فتح بھی روحانی تا بال علم کی مخالفانہ طاقتوں کو اسکی ابھی طاقت ایسا ضعیف کرے کہ کا لعدم کر دیوے میں متعجب ہوں کہ آپ نے کس سے اور کہاں سے سن لیا اور کیونکر سمجھ لیا کہ جو باتیں اس زمانہ کے فلسفہ اور سائنس نے پیدا کی ہیں وہ اسلام پر غالب ہیں حضرت خوب یاد رکھو کہ اس فلسفہ کے پاس تو صرف عقلی استدلال کا ایک ادھورا سا ہتھیار ہے اور اسلام کے پاس یہ بھی کامل طور پر اور دوسرے کئی آسمانی ہتھیار ہیں پھر اسلام کو اس حملہ سے کیا خوف ، پھر نہ معلوم کہ آپ اس قدر اس فلسفہ سے