آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 253

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۳ آئینہ کمالات اسلام جس کا آنا اس صدی پر اس صدی کے مناسب حال ضروری تھا اور جس کی ابتدا سے ۲۵۳ نبی کریم نے خبر دی تھی اور اہل اللہ نے اپنے الہامات اور مکاشفات سے اس کی نسبت لکھا تھا ذرہ نظر اٹھا کر دیکھو کہ اسلام کو کس درجہ پر بلاؤں نے مجبور کر لیا ہے اور کیسے چاروں طرف سے اسلام پر مخالفوں کے تیر چھوٹ رہے ہیں اور کیسے کروڑ ہا نفسوں پر اس زہر نے اثر کر دیا ہے یہ علمی طوفان یہ عقلی طوفان یہ فلسفی طوفان یہ مکر اور منصوبوں کا طوفان یہ فسق اور فجور کا طوفان یہ لالچ اور طمع دینے کا طوفان یہ اباحت اور دہریت کا طوفان یہ شرک اور بدعت کا طوفان جو ہے ان سب طوفانوں کو ذرہ آنکھیں کھول کر دیکھو اور اگر طاقت ہے تو ان مجموعہ طوفانات کی کوئی پہلے زمانہ میں نظیر بیان کرو اور ایمانا کہو کہ حضرت آدم سے لے کر تا ایندم اس کی کوئی نظیر بھی ہے اور اگر نظیر جس زینہ پر چڑھنے کے بغیر کچی معرفت کو طلب کرنا ایک سخت غلطی ہے لیکن اس زینہ پر چڑھنے والے معارف صافیہ اور مشاہدات شافیہ کا ضرور چہرہ دیکھ لیتے ہیں جب ایک ایماندار بحیثیت ایک صادق مومن کے احکام اور اخبار الہی کو محض اس جہت سے قبول کر لیتا ہے کہ وہ اخبار اور احکام ایک مخبر صادق کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائے ہیں تو عرفان کا انعام پانے کے لئے مستحق ٹھہر جاتا ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے یہی قانون ٹھہرا رکھا ہے کہ پہلے وہ امور غیبیہ پر ایمان لا کر فرمانبرداروں میں داخل ہوں اور پھر عرفان کا مرتبہ عطا کر کے سب عقدے ان کے کھولے جائیں لیکن افسوس کہ جلد باز انسان ان راہوں کو اختیار نہیں کرتا خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص ایمانی طور پر نبی کریم کی دعوت کو مان لیوے تو وہ اگر مجاہدات کے ذریعہ سے ان کی حقیقت دریافت کرنا چاہے وہ اس پر بذریعہ کشف اور الہام کے کھولے جائیں گے اور اُسی کے ایمان کو عرفان کے درجہ تک پہنچایا جائے گا اور اس وعدہ کا صدق ہمیشہ راست بازوں