آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 251
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۱ آئینہ کمالات اسلام حصہ ملتا ہے اور یہ اس کا فضل ہے جس پر چاہے کرے ۔ اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اسی کے موافق جو ابھی میں نے ذکر کیا ہے خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راست بازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں سو اے حق کے طالبو سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ وقت وہی وقت نہیں ہے جس میں اسلام کے لئے آسمانی مدد کی ضرورت تھی جبر اور تکلیف مالا يطاق ہے کیونکہ جیسا کہ ہم اس تالیف اور تالیفات سابقہ میں لکھ چکے ہیں ان ایمانی امور کے ساتھ ایسے قرائن مرجحه بھی ہیں جو طالب حق کو تشفی بخشتے ہیں ۔ اور عقل سلیم کے لئے قائم مقام دلائل و براہین ہو جاتے ہیں اور اوہام فلسفیہ کو کالعدم اور نابود کر دیتے ہیں ۔ پھر جب کہ وہ ایسے شخص کے منہ سے نکلے جو بہت سے انوار سماوی اور برکات اور خوارق اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ تو ان انوار کو محو فانظر رکھنے سے بلا شبہ ایک سلیم الفطرت آدمی کا یقین نور علی نور ہو جاتا ہے۔ سو ایمان کی یہی فلاسفی ہے جو میں نے بیان کی ۔ خدا تعالیٰ کا کلام ہمیں یہی سکھلاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ تب نجات پاؤ گے یہ ہمیں ہدایت نہیں دیتا کہ تم ان عقائد پر جو نبی علیہ السلام نے پیش کئے دلائل فلسفیہ اور براہین یقینیہ کا مطالبہ کرو اور جب تک علوم ہندسہ اور حساب کی طرح وہ صداقتیں کھل نہ جائیں تب تک ان کومت مانو ۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کی باتوں کو علوم حسیہ کے ساتھ وزن کر کے ہی مانا ہے تو وہ ۲۵۱