آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 247
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۴۷ آئینہ کمالات اسلام سچا خدا ہے ہر یک نئی دنیا کے لئے نئے نشان دکھلاتا ہے اور ہر یک صدی کے سر پر (۲۲۷ اور خاص کر ایسی صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دور پڑ گئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے ایک قائم مقام نبی کا پیدا کر دیتا ہے جس کے آئینہ فطرت میں نبی کی شکل ظاہر ہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے توسط سے لوگوں کو دکھلاتا ہے اور تمام مخالفوں کو سچائی اور حقیقت نمائی اور پردہ دری کے رو سے ملزم کرتا ہے سچائی کے رو سے اس طرح کہ وہ سچے نبی پر ایمان نہ لائے پس وہ دکھلاتا ہے کہ وہ نبی سچا تھا اور اس کی سچائی پر آسمانی نشان یہ ہیں اور حقیقت نمائی کی رو سے اس طرح کہ اس نبی متبوع کے تمام مغلقات دین کا حل کر کے دکھلا دیتا ہے اور تمام شبہات اور اعتراضات کا استیصال کر دیتا کہ جیسے دو اور دو چار تو پھر کیا وجہ تھی کہ ان کے ماننے اور تسلیم کرنے سے ہمیں نجات کا وعدہ دیا جاتا ۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی بدیہی بات کے ماننے اور قبول کرنے سے نجات کو کیا تعلق ہے اگر میں یہ کہوں کہ میں نے مان لیا کہ اب تک جو ۳۰ /نومبر ۱۸۹۲ ء ہے سید صاحب صحیح سالم زندہ موجود ہیں یا اگر میں قبول کرلوں کہ فی الواقع اتوار کے بعد پیر آتا ہے اور در حقیقت میں کا نصف دس ہوتے ہیں تو کیا مجھے ان باتوں پر ایمان لانے اور مان لینے سے کسی ثواب کی توقع رکھنی چاہیے پھر اگر مثلاً وجود ملائک کا اشیاء مشہودہ محسوسہ کی طرح ہوتا ۔ مثلاً ایسا یقینی ہوتا کہ خدائے تعالی آپ کو کوئی فرشتہ پکڑا کر دکھا دیتا اور آپ ملائک کو ہاتھوں سے ٹول لیتے اور آنکھوں سے دیکھ لیتے اور ایسا ہی بہشت کی نہریں اور خور اور غلمان آپ کو علی گڑھ میں بیٹھے ہوئے نظر آ جاتیں اور شراب طہور کا کوئی پیالہ بھی پی لیتے ۔ اور دوزخ بھی سامنے نظر آتا تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان تمام کھلم کھلے ثبوتوں کے بعد آپ کا آمنا و صدقنا کہنا کیا وزن رکھتا ۔