آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 245
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۴۵ آئینہ کمالات اسلام حیران ہو جاتی ہے کرامت کیا چیز ہے؟ مومن کی دعا جو قبول ہو کر ایک نہایت مشکل ۲۳۵۶) اور بعید از عقل کام کو پورا کر دیتی ہے اور تمام خلقت کو ایک حیرت میں ڈالتی ہے پھر کیونکر کہا جائے کہ دعا قبول نہیں ہوتی نادان ہے وہ شخص جو ایسا خیال کرتا ہے، بے وقوف ہے وہ فلسفی جو ایسا سمجھتا ہے، یہ دعوئی بے دلیل نہیں اس پر میرے پاس کھلے کھلے دلائل اور نہایت روشن براہین ہیں پر جو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھتا ہے تا آفتاب نظر نہ آوے وہ کیونکر روشنی کو دیکھ سکتا ہے ۔ اب یہ بھی یادر ہے کہ وہ اسلام جس کی خوبیاں ہم بیان کر چکے ہیں وہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے ثبوت کے لئے ہم صرف گذشتہ کا حوالہ دیں اور محض قبروں کے نشان دکھلائیں اسلام مردہ مذہب نہیں تا یہ کہا جائے کہ اس کی سب برکات پیچھے رہ خدا تعالیٰ کو علت العلل سمجھتے ہیں لیکن اس کو مد تر بالا رادہ اور اپنی مخلوق میں متصرف اور عالم جميع جزئیات کائنات یقین نہیں رکھتے اور کوئی اختیار یا تصرف اس کا عالم پر تسلیم نہیں کرتے سو وہ بھی درحقیقت وہریوں کے چھوٹے بھائی ہیں یہ سچ ہے کہ انسان جہاں سچائی دیکھے اس کو لے لے۔ لیکن ہمیں نہیں چاہئے کہ مسموم کھانوں میں سے ایک کھانے کو اس خیال سے کھانے لگیں کہ غالباً اس میں زہر نہیں ہوگا یہ یقینی امر ہے کہ ہر ایک شخص اپنے اصول کے موافق کلام کرتا ہے اور تمام جزئی مباحث اور تحقیقات پر اصول کا اثر پڑا ہوا ہوتا ہے ۔ پھر جب کہ فلاسفروں کا اصل عقید ہ دہریت یا اسی کے قریب قریب ہے تو کیا امید ہو سکتی ہے کہ ان کے دوسرے مباحث میں جو اسی اصول کے زیر سلسلہ چلے جاتے ہیں کوئی صلاحیت اور رشد کی بات ہو گی اور خدائے تعالیٰ کے کلام نے ہمیں کون سی ضرورت اور حاجت ان کی طرف باقی رکھی ہے تاہم دانستہ ایسی خطر ناک راہ کو اختیار کریں جو ہمیشہ ہلاکت تک پہنچاتی رہی ہے ہر یک مسلمان پانچ