آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 244
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۴۴ آئینہ کمالات اسلام (۲۴۴) ایسی بے معنی لبیک کا فائدہ کیا بلکہ مومن کی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے اور اگر قبول کرنا مومن کے حق میں بہتر نہ ہو تو کم سے کم یہ ہوتا ہے کہ مومن کو نرمی اور محبت کی راہ سے بذریعہ محتبا نہ مکالمہ کے اس پر اطلاع دی جاتی ہے ۔ خدا تعالیٰ جو تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے سب سے زیادہ رحمت مومن پر ہی کرتا ہے اور ہر یک مصیبت کے وقت اسے سنبھالتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے اور اگر تمام دنیا ایک طرف ہو اور مومن ایک طرف تو فتح مومن ہی کو دیتا ہے اور اس کی عمر اور عافیت کے دن بڑھاتا ہے ۔ دشمن کہتا ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے اور نا پدید ہو جائے پر وہ دشمن کو ہی ہلاک کرتا ہے اور اس کی بددعائیں اسی کے سر پر مارتا ہے پر مومن کی دعا کو قبول کر لیتا ہے اور اس کی دعاؤں کو قبول کر کے وہ خوارق دکھلاتا ہے جن سے دنیا جو حقیقی خدا دانی کے نتائج ہیں کبھی ان فلاسفروں کو میسر ہوئے ہیں یا اب میسر ہیں۔ کیا فلسفہ کی کتابوں کی ورق گردانی سے اس بچی معرفت کی امید ہے جو نفسانی جذبات سے آزاد کرتی اور محبت الہی دل میں بٹھاتی ہے میری دانست میں تو ہر گز نہیں فلسفہ کے علم کا انتہائی معراج تو یہی ہے کہ ایسا انسان جو صرف فلسفہ کا تابع ہے خدا اور رسول اور بہشت اور دوزخ سے بکنی دست بردار ہو جائے اور تکبر اور رعونت اور نفس پرستی اختیار کر لیوے ان کے نزدیک اقرار وجود ذات مد تبر بالا رادہ صرف ایک وہم اور صوم و صلوۃ تضیع اوقات اور فکر معاد مجنونانہ خیال ہے۔ یہی ان کی تو رگ وپے میں وہ باتیں پھیلی ہوئی ہیں جو ایک پرزور انجن کی طرح ہر دم و ہریت کی طرف کھینچتی چلی جاتی ہیں اسلامی حکمت اور معرفت کا مرکز دائرہ وجود باری اور اس کا مدتر بالا رادہ ہونا اور اس کا واحد لاشریک ہوتا ہے اور اسی کے مناسب حال ہمارے دین کے تمام مسائل ہیں اور فلسفیوں کی حکمت اور معرفت کا اصل مرکز دائرہ دہریت ہے اور اسی کے مناسب حال ان کی تمام تحقیقا تیں ہیں ہاں ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو صرف برائے نام