آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 240
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۴۰ آئینہ کمالات اسلام (۱۳۰) ہونے کے لئے بہت ہی دخل رکھتی ہے جب ایک شرف یاب مکالمہ الہی کمال در دمند اور مضطر ہوتا ہے اور اس کی توجہ درد اور حزن سے ملی ہوئی ایک تار بندھ جانے کی حالت تک پہنچ جاتی ہے اور وفاداری اور تضرع اور صدق کے ساتھ ربوبیت کی شعاعوں کے نیچے جا پڑتی ہے تو یک دفعہ ربوبیت کا ایک شعاع اپنی ربوبیت کی تجلّی کے ساتھ اس پر گرتا ہے اور اس کو روشن کر دیتا ہے اور وہ روشنی کبھی کلام کی صورت میں اور کبھی کشف کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور رجوع کرنے والے دل کو اس فتیلہ کی طرح جو آگ کے نزدیک پہنچ جاتا ہے اپنے ربّانی نور سے منور کر دیتی ہے کیا یہ بدیہی طور پر محسوس نہیں ہوتا جو ایک فتیلہ جو پاکیزہ تیل اپنے اندر رکھتا ہے جب آگ کے نزدیک کیا جاتا ہے تو وہ فی الفور صورت بدل لیتا ہے اور آگ اگر آپ ایک صادق دل لے کر میری طرف متوجہ ہوں تو میں خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر عہد کرتا ہوں کہ آپ کو مطمئن کرنے کے لئے اس قادر مطلق سے مدد چاہوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری فریاد سنے گا اور آپ کو ان غلطیوں سے نجات دے گا جن کی وجہ سے نہ صرف آپ بلکہ ایک گروہ کثیر گرداب شبہات میں مبتلا نظر آتا ہے ۔ آپ یقین کیجئے کہ میں محض اللہ اس کام کے لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ کی رائے کا غلط ہونا آپ پر ثابت کر دکھاؤں تو اب آپ میرے اس تعجب اور تاسف کا اندازہ کر سکتے ہیں جو آپ کے ان کلمات سے مجھ کو ہو رہا ہے جن میں آپ نے بلا غور وفکر یہ دعوی کر دیا ہے کہ نہ ملا ئک کچھ چیز ہیں اور نہ وحی ملائک کچھ چیز بلکہ یہ سب انسانی فطرت کی قوتوں کے نام ہیں ۔ عزیز من انسانی فطرت کا ظرف خدائی طاقتوں کا مظہر نہیں ہوسکتا اور جو کچھ انسان کو اس کی فطرت کے توسط سے عطا کیا جاتا ہے وہ مخلوقیت کی حدود سے مافوق نہیں ہوتا ۔ مثلاً انسان کی جس قدر ایجادات ہیں اور جس قدر انسانوں نے اب تک صنعتیں نکالی ہیں