آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 232
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۲ آئینہ کمالات اسلام ۲۳۲) کہ وہ اللہ جل شانہ کی ایک تجلی خاص کا نام ہے جو بذریعہ اس کے مقرب فرشتہ کے ظہور میں آتی ہے اور اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ تا دعا کے قبول ہونے سے اطلاع دی جائے یا کوئی نئی اور مخفی بات بتائی جائے یا آئندہ کی خبروں پر آگا ہی دی جائے یا کسی امر میں خدائے تعالیٰ کی مرضی اور عدم مرضی پر مطلع کیا جائے یا کسی اور قسم کے واقعات میں یقین اور معرفت کے مرتبہ تک پہنچایا جائے ۔ بہر حال یہ وحی ایک الہی آواز ہے جو معرفت اور اطمینان سے رنگین کرنے کے لئے منجانب اللہ پیرا یہ مکالمہ و مخاطبہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی کیفیت بیان کرنا غیر ممکن ہے کہ وہ صرف الہی تحریک اور ربانی نفخ سے بغیر کسی قسم کے فکر اور تدبر اور خوض اور غور اور اپنے نفس کے دخل کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک قدرتی ندا ہے جو لذیذ اور پر برکت اس کا یہ باعث قرار دینا تو صحیح معلوم نہ ہوا کہ سید صاحب ہر یک شخص سے بحث کی طرح ڈالنا پسند نہیں کرتے کیونکہ میرے دعاوی ایک معمولی دعاوی نہیں بلکہ یہ وہ امور ہیں کہ اگر کر وڑا لوگوں میں ان کا چرچا نہیں تو لاکھوں میں تو ضرور ہوگا ماسوا اس کے سید صاحب کا الہامی پیشگوئیوں اور خوارق سے ایک عام انکار ہے جس سے انبیاء بھی جیسا کہ مجھے آپ کی تالیفات کا منشاء معلوم ہوتا ہے باہر نہیں ہیں پس کیا اچھا ہوتا کہ اس موقع پر جو الہامی پیشگوئیوں پر نہ صرف ایمانا میرا اعتقاد ہے بلکہ ان کا مجھے کو خود دعوی بھی ہے سید صاحب مجھ سے اپنے شکوک دور کر ا لیتے اور اگر میں اپنے دعوئی میں سچا نہ نکلتا تو جس سزا کو سید صاحب میرے لئے تجویز کرتے ہیں اس کے بھگتنے کے لئے حاضر تھا اور اگر میرا صدق کھل جاتا تو سید صاحب اس وقت میں کہ ستارہ زندگی قریب الغروب ہے نہ صرف میری سچائی کے قائل ہوتے بلکہ ان پاک اعتقادوں کو جو وحی نبوت کی نسبت ضائع کر بیٹھے ہیں پھر حاصل کر لیتے عزیز من ایک منادی