آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 231

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۱ آئینہ کمالات اسلام طمانیت اور تسلی اور سکیت بخشتے ہیں اور اس کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ (۲۳۱) الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے اور روح القدس کے دکھائے دیکھتے اور روح القدس کے سنائے سنتے اور ان کے تمام ارادے روح القدس کے نفخ سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ وہ ظلمی طور پر اس آیت کا مصداق ہوتے ہیں وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی لے لیکن مکالمہ البہیہ ایک الگ امر ہے اور وہ یہ ہے کہ وحی متلو کی طرح خدائے تعالیٰ کا کلام ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ اپنے سوالات کا خدائے تعالیٰ سے ایسا جواب پاتے ہیں کہ جیسا ایک دوست دوست کو جواب دیتا ہے اور اس کلام کی اگر ہم تعریف کریں تو صرف اس قدر کر سکتے ہیں حب اسلام کا دعویٰ اور قرآن کریم کی تفسیر کرنے کا ولولہ اور نیز متانت اور استقلال اور نیک منشی کا دم بھی مارتا ہو وہ ایسی جلدی ایسی باتیں منہ پر لا دے کہ جو فرقان حمید کی تعلیمات سے بالکل مخالف ہیں مجھے نہایت خوشی ہوتی اگر سید صاحب صرف اسی قدر پر کفایت نہ کرتے کہ مخالفانہ اور غیر معتقدانہ باتیں کہہ کر اور مکالمہ الہیہ کے مدعی کو مجنون اور پاگل قرار دے کر چپ ہو جا ئیں بلکہ جیسا کہ داب اور طریق حق پسندوں اور منصف مزاجوں کا ہے میرے دعاوی کی مجھ سے دلیل طلب کرتے تا اگر میں غلطی پر تھا تو اس غلطی کا صاف طور پر فیصلہ ہو جاتا اور اگر حضرت آپ ہی غلطی پر تھے تو ان کو اپنے اقوال سے رجوع کرنے کا مبارک موقع ملتا بہر حال اس تقریب سے پبلک کو ایک فائدہ پہنچتا اور آج کل جو انہیں مسائل پر قلموں کی کشت خونی ہو رہی ہے یہ روز کے جھگڑے طے ہو جاتے مگر مجھے بار بار افسوس آتا ہے کہ اس طریق مستقیم کی طرف سید صا حب نے رخ بھی نہ کیا ۔ میں نے بہت سوچا کہ اس کا کیا سبب ہے مجھے النجم: ۵،۴