آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 215

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۱۵ آئینہ کمالات اسلام اور جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے اور اس زمانہ کا آخری ۲۵۶ حصہ جو مسیح موعود کے زمانہ اقبال سے ملحق ہے اس کا حال احادیث نبویہ کے رو سے نہایت ہی بدتر معلوم ہوتا ہے جو بیہقی نے اس کے بارے میں ایک حدیث لکھی ہے یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے مولوی اور فتویٰ دینے والے ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہوں گے اور حجج الکرامہ میں لکھا ہے کہ در حقیقت مہدی اللہ ) مسیح موعود ) پر کفر کا فتوی دینے والے یہی لوگ ہوں گے اس بات سے اکثر مسلمان بے خبر ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ ہوگا چنانچہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی غرض وہ زمانہ جو اول زمانہ اور مسیح موعود کے زمانہ کے بیچ میں ہے نہایت حمد حاشیہ جب یہ عاجز نور افشاں کے جواب میں اس بات کو دلائل شافیہ کے ساتھ لکھ چکا کہ ایک رویا در حقیقت روحانی قیامت کے مصداق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کسی قدر کے بیان نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو در حقیقت احاطہ بیان سے خارج ہے ان عبارات میں درج کر چکا اور نیز بطور نمونہ کچھ مناقب و محامد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اسی ثبوت کے ذیل میں تحریر کر چکا تو وہ ۷ ار اکتوبر ۱۸۹۲ ء کا دن تھا۔ پھر جب میں رات کو بعد تحریر نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مناقب ومحامد صحابہ رضی اللہ عنہم سویا میں تو مجھے ایک نہایت مبارک اور پاک رؤیا دکھایا گیا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک وسیع 3 وسلم کی زیارت کا بیان مکان میں ہوں جس کے نہایت کشادہ اور وسیع دالان ہیں اور نہایت مکلف فرش ہورہے ہیں اور اوپر کی منزل ہے اور میں ایک جماعت کثیر کور بانی حقائق و معارف سنا ال رہا ہوں اور ایک اجنبی اور غیر معتقد مولوی اس جماعت میں بیٹھا ہے جو ہماری جماعت میں سے نہیں ہے۔ مگر میں اس کا خلیہ پہچانتا ہوں وہ لاغر اندام اور سفید ریش ہے