آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 214
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۱۴ آئینہ کمالات اسلام ۲۱۴) جو مسیح موعود کا زمانہ اور مصداق آیت و آخرین منھم کا ہے وہ وہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں ۔ جیسا کہ مولوی صدیق حسن مرحوم قنوجی تم بھو پالوی جو شیخ بطالوی کے نزدیک مجد دوقت ہیں اپنی کتاب حجج الکرامہ کے صفحہ ۱۵۵ میں لکھتے ہیں کہ آخریت این امت از بدایت الف ثانی شروع کردیده آثار تقوی از اول گم شده بودند و اکنوں سطوت ظاہری اسلام ہم مفقوده شده - تم کلامہ اور یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی زمانے نیک قرار دیئے ہیں ایک صحابہ کا زمانہ جس کا امتداد اس حد تک متصور ہے جس میں سب سے آخر کوئی صحابی فوت ہوا ہو اور امتداد اس زمانہ کا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے وقت تک ثابت ہوتا ہے اور دوسرا زمانہ وسط ہے جس کو بلحاظ بدعات کثیرہ ام الخبائث کہنا چاہیئے ثبوتوں کے بعد بلا شبہ ملائک کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور ایمانی امور کے لئے صرف اس قدر ثبوت کی حاجت ہے تا تکلیف مالا يطاق نہ ہو اور نیز ایمان لانے کا ثواب بھی ضائع نہ ہو کیونکہ اگر ملائک کے وجود کا ایسا ثبوت دیا جاتا کہ گویا ان کو پکڑ کر دکھلا دیا جاتا تو پھر ایمان ایمان نہ رہتا ۔ اور نجات کی حکمت عملی فوت ہو جاتی ۔ فافهم و تدبّر و لا تكن من المستعجلين منه بقیه حاشیه در حاشیه طرف کھینچ لے کفر اور شرک بہت بڑھ گیا اور اسلام کم ہو گیا ۔ اب اے کریم ! مشرق اور مغرب میں توحید کی ایک ہوا چلا اور آسمان پر جذب کا ایک نشان ظاہر کر اے رحیم ! تیرے رحم کے ہم سخت محتاج ہیں ۔ اے ہادی ! تیری ہدایتوں کی ہمیں شدید حاجت ہے مبارک وہ دن جس میں تیرے انوار ظاہر ہوں کیا نیک ہے وہ گھڑی جس میں تیری فتح کا نقارہ بجے ۔ تو گلنا علیک و لا حول و لا قوة الا بك و انت | العلى العظيم منه