آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 213
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۱۳ آئینہ کمالات اسلام اور دنیا حقیقی ایمان سے ایسی دور ہو کہ گویا خالی ہو ۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ جل شانه ان (۲۱۳) کے حق میں فرماتا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والے خالص اور کامل بندے ہوں گے جو اپنے کمال ایمان اور کمال اخلاص اور کمال صدق اور کمال استقامت اور کمال ثابت قدمی اور کمال معرفت اور کمال خدا دانی کی رو سے صحابہ کے ہمرنگ ہوں گے اور اس بات کو بخوبی یا درکھنا چاہیے کہ در حقیقت اس آیت میں آخری زمانہ کے کاملین کی طرف اشارہ ہے نہ کسی اور زمانہ کی طرف کیونکہ یہ تو آیت کے ظاہر الفاظ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کامل لوگ آخری زمانہ میں پیدا ہوں گے جیسا کہ آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ صاف بتلا رہی ہے اور زمانے تین ہیں ایک اول جوصحابہ کا زمانہ ہے اور ایک اوسط جو مسیح موعود اور صحابہ کے درمیان ہے اور ایک آخری زمانہ حاشیه شعور سے لیتا ہے اور ارادہ کا کام صاحب ارادہ سے انسان کا کام انسان سے اور حیوان کا کام حیوان سے اور نظر دقیق کا کام نظر دقیق سے پس ان ، شتاب کا راور بلید طبع مخالفین نے ایسے اعتراضات کے کرنے میں کس قدر معرفت اور حکمت سے اپنی بے بہر گی ظاہر کی ہے اور کیسے وہ اور ان کے مذا ہب دقائق ی حقانیت سے دور پڑے ہوئے ہیں اور قرآن کریم کیسے اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف و لطائف و نکات اپنی پاک تعلیم میں جمع رکھتا ہے اور کیونکر تمام روحانی محاسن اور خوبیوں پر محیط ہو رہا ہے بالآخر ہم دعا کرتے ہیں کہ اے قادر خدا اے اپنے بندوں کے رہنما ۔ جیسا تو نے اس زمانہ کو صنائع جدیدہ کے ظہور و بروز کا زمانہ ٹھہرایا ہے ایسا ہی قرآن کریم کے حقائق معارف ان غافل قوموں پر ظاہر کر اور اب اس زمانہ کو اپنی طرف اور اپنی کتاب کی طرف اور اپنی توحید کی بقیه حاشیه در حاشیه الجمعة : ۴