آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 209
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۰۹ آئینہ کمالات اسلام یہ نکتہ یادر ہے کہ آیت و آخرین منھم میں آخرین کا لفظ مفعول کے محل پر واقع ہے گویا (۲۹) تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے هو الذي بـعـث فـي الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم ايته و يزكيهم و يعلمهم الكتاب والحكمة و يعلّم | الآخرين منهم لما يلحقوا بهم یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اور جیسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے یعنی وہ لوگ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جس زمانہ میں ظاہری افادہ اور استفادہ کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور مذہب اسلام بہت سی غلطیوں اور بدعتوں سے پر ہو جائے گا اور فقرا کے دلوں سے بھی باطنی روشنی جاتی ملائکہ اس کی نظر میں ضرور ثابت ہو جائیں گے اور اگر ایسا طالب دہر یہ ہے تو پہلے ہم وجود باری کا اس کو ثبوت دیں گے اور پھر اس بات کا ثبوت کہ خدا بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا چہارم اس کلام جامع نام مفصل مینز کا مرتبہ جو سب نازل ہو چکا اور جمیع مضامین مقصودہ اور علوم حکمیه و نقص و اخبار و احکام و قوانین و ضوابط و حدود و مواعید و انذارات و تبشیرات اور درشتی اور نرمی اور شدت اور رحم اور حقائق و نکات پر بالاستیفا مشتمل ہے پنجم بلاغت و فصاحت کا مرتبہ جو زینت اور آرائش کے لئے اس کلام پر ازل سے چڑھائی گئی ششم برکت اور تاثیر اور کشش کی روح کا مرتبہ جو اس پاک کلام میں موجود ہے جس نے تمام کلام پر اپنی روشنی ڈالی اور اس کو زندہ اور منور کلام ثابت کیا ۔ اسی طرح ہر یک عاقل اور فصیح منشی کے کلام میں یہی چھ مرا تب جمع ہو سکتے ہیں گو وہ کلام اعجازی حد تک نہیں پہنچتا کیونکہ جن حروف میں کوئی کلام لکھا جائے گا