آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 207
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۰۷ آئینہ کمالات اسلام نے ایک تازہ زندگی پانی تھی اور اپنے ایمانوں میں ستاروں کی طرح چمک اٹھے تھے (۲۰۷) سو در حقیقت ایک ہی کامل انسان دنیا میں آیا جس نے ایسے اتم اور اکمل طور پر یہ روحانی قیامت دکھلائی اور ایک زمانہ دراز کے مردوں اور ہزاروں برسوں کے عظم رمیم کو زندہ کر دکھلایا اس کے آنے سے قبریں کھل گئیں اور بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑ گئی اور اس نے ثابت کر دکھلایا کہ وہی حاشر اور وہی روحانی قیامت ہے جس کے قدموں پر ایک عالم قبروں میں سے نکل آیا اور بشارت وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًا تمام ? نا تمام جزیرہ عرب پر اثر انداز ہوگئی اور پھر اس قیامت کا نمونہ صحابہ تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس خداوند قادر قدیر نے جس نے ہر قوم اور ہر زمانہ اور ہر ملک کے لئے اس بشیر و نذیر کو مبعوث کیا تھا ہمیشہ کے لئے جاودانی برکتیں بالغیب ہے مگر قرآن کریم کو دیکھو کہ اُس صانع کا وجود ثابت کرنے لئے کس قدر استدلالات اور براہین شافیہ سے بھرا ہوا ہے ۔ ایسا ہی اگر چہ یہ تو نہیں کہ اس کی شکل کو چمکیلی اور اس کی تمام ہیکل کو آبدار کر دیتی ہے تب اس کے چہرہ پر حاشیه کا ملیت کا نور برستا ہے اور اس کے بدن پر کمال نام کی آب و تاب نظر آتی ہے اور یہ درجہ پیدائش کا جسمانی پیدائش کے اس درجہ سے مشابہ ہوتا ہے کہ جب جنین کے خاکہ کی ہڈیوں پر گوشت چڑھایا جاتا ہے اور خوبصورتی اور تناسب اعضا ظاہر کیا جاتا ہے ۔ پھر بعد اس کے روحانی پیدائش کا چھٹا درجہ ہے جو مصداق ثمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ کا ہے ۔ وہ مرتبہ بقا ہے جو فنا کے بعد ملتا ہے جس میں روح القدس کامل طور پر عطا کیا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی کی روح انسان کے اندر پھونک دی جاتی ہے ۔ ایسا ہی یہ چھ مرا تب خدا تعالیٰ کی پاک کلام میں بھی النصر: ۳ ۲ المومنون: ۱۵