آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 200

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۰۰ آئینہ کمالات اسلام ۲۰۰ ہوتا لیکن خداوند مسیح نے جیسا دعویٰ اپنے حق میں کیا ویسا ہی اس کو ثابت بھی کر دکھلایا۔ فقط ۔ ایڈیٹر صاحب کا یہ مقولہ جس قدر راستی اور صداقت سے دور ہے کسی حقیقت شناس پر مخفی نہیں رہ سکتا واقعی امر یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام ایسا دعویٰ کرتے کہ زندگی اور قیامت میں ہوں تو چونکہ وہ بچے نبی تھے اس لئے ضرور تھا کہ اس دعوی کی سچائی ظاہر ہو جاتی اور حضرت مسیح کی زندگی میں اور بعد ان کے روحانی حیات دنیا میں بذریعہ ان کے پھیل جاتی لیکن جس قدر حضرت مسیح الہی صداقت اور ربانی توحید کے پھیلانے سے ناکام رہے شاید اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات میں بہت ہی کم ملے گی ہمارے اس زمانہ میں یہ شہادت بڑے بڑے پادری صاحبان بھی دے چکے داخل کر دیا ہے وہ کیونکر بر خلاف ارادہ الہی اس درجہ کی ہدایت تک پہنچ جائے ہاں جب انسان ایمان کے درجہ سے عرفان کے مرتبہ پر ترقی کرتا ہے تو بلا شبہ یہ تمام امور ہدایت کے رنگ میں نظر آتے ہیں بلکہ ہندی ثبوتوں سے بڑھ کر ان کا ثبوت ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے تمام پیدائشی کام اس دنیا میں تدریجی ہیں تو پھر اگر منکر کی نظر میں یہ دلیل کافی نہیں تو اس پر واجب ہوگا کہ وہ بھی تو اپنے اس دعوے پر کوئی دلیل پیش کرے کہ خدا تعالیٰ نے یہ عالم جسمانی صرف ایک دم میں پیدا کر دیا تھا تدریجی طور پر پیدا نہیں کیا تھا ۔ ہر یک شخص جانتا ہے کہ وہی خدا اب بھی ہا ہے جو پہلے تھا اور وہی خالقیت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جو پہلے جاری تھا ۔ اور صاف بدیہی طور پر نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالی ہر ایک مخلوق کو تدریجی طور پر اپنے کمال وجود تک پہنچاتا ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پہلے وہ قومی تھا اور جلد کام کر لیتا تھا اور اب ضعیف ہے اور دیر سے کرتا ہے بلکہ یہی کہیں گے