آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 197

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۷ آئینہ کمالات اسلام تولد کامل اور یہ حیات حیات کامل ہے اور غور کی نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ بیضہ بشریت ۱۹۷۶﴾ کے روحانی بچے جو روح القدس کی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کی برکت سے پیدا ہوئے وہ اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور نوع اور حالت میں تمام انبیاء کے بچوں سے اتم اور اکمل ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ لا یعنی تم سب امتوں سے بہتر ہو جو لوگوں کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور در حقیقت جس قدر قرآنی تعلیم کے کمالات خاصہ ہیں وہ اس امت مرحومہ کے استعدادی کمالات پر شاہد ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ کی کتابیں ہمیشہ اسی قدر نازل ہوتی ہیں جس قدر اس امت میں جو تعمیل کتاب کی مکلف ہے استعداد ہوتی ہے مثلاً انجیل کی نسبت تمام متفقین کی یہ رائے ہے کہ۔ F ایک زمینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہمارے رو برو وہی آسمان سے اتر و اور کتاب الہی ساتھ لاؤ جس کو ہم ہاتھ میں لے کر پڑھ لیں ۔ اور وہ نادان نہیں سمجھتے تھے کہ اگر انکشاف حقیقت اس قدر ہو جائے تو پھر اس عالم اور قیامت میں فرق کیا رہا اور ایسے بدیہی ایک کافی حصہ اس کا لے لیتا ہے۔ تب باذنہ تعالیٰ اس میں جان پڑ جاتی ہے تب وہ نباتی حالت سے جوصرف نشو و نما ہے منتقل ہو کر حیوانی حالت کی خاصیت پیدا کر لیتا ہے اور پیٹ میں حرکت کرنے لگتا ہے غرض یہ ثابت شدہ بات ہے کہ بچہ اپنی نباتی صورت سے حیوانی صورت کو کامل طور پر اس وقت قبول کرتا ہے کہ جب کہ عام طور پر موٹا گوشت اس کے بدن پر مناسب کمی بیشی کے ساتھ چڑھ جاتا ہے یہی بات ہے جس کو آج تک انسان کے مسلسل تجارب اور مشاہدات نے ثابت کیا ہے یہ وہی تمام صورت ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے اور مشاہدات کے ذریعہ سے جتواتر ثابت ہے پھر اس پر اعتراض آل عمران : ااا