آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 195
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۵ آئینہ کمالات اسلام وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِّنْہ لے یعنی ان کو روح القدس کے ساتھ مدد دی اور روح القدس (۱۹۵) کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشتا ہے اور پاکیزہ قوتیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے مقرب وہی ہیں جو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ وہ ہے اور یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کی قدرتیں اور اس کی رحمتیں اور اس کی عقوبتیں اور اس کی عدالتیں سب سچ ہے اور وہ جمیع فیوض کا مبدء اور تمام نظام عالم کا سر چشمہ اور تمام سلسلہ موثرات اور متاثرات کا علت العلل ہے مگر متصرف بالا رادہ جس کے ہاتھ میں کل مَلَكُوتِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے اور یہ علوم جو مدار نجات ہیں یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیں ہو سکتے جو بتوسط روح القدس انسان کو میں ہزار ہا بلکہ کروڑہا چیزوں کو یقینی اور قطعی طور پر مانتے ہیں اور ان کے وجود میں ذرہ شک نہیں کرتے تو کیا ان کے ماننے سے کوئی ثواب ہمیں مل سکتا ہے ۔ ہر گز نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نشانوں کو بھی ایسے بدیہی طور سے اپنے نبیوں کے ذریعہ سے۔ F بقیه حاشیه در حاشیه رہتا ہے ۔ اور اس درجہ پر انسانی شکل کا کھلا کھلا خا کہ طیار ہو جاتا ہے جس کے دیکھنے کے لئے کسی خورد بین کی ضرورت نہیں اس خاکہ میں انسان کا اصل وجود جو کچھ بننا چاہئے تھا بن چکتا ہے لیکن وہ ابھی اس لحسم سے خالی ہوتا ہے جو انسان کے لئے بطور ایک موٹے اور شاندار اور چمکیلے لباس کے لئے ہے۔ جس سے انسان کے تمام خط و خال ظاہر ہوتے ہیں اور بدن پر تازگی آتی ہے اور خوبصورتی نمایاں ہو جاتی ہے اور تناسب اعضا پیدا ہوتا ہے پھر بعد اس کے پانچواں درجہ وہ ہے کہ جب اس خاکہ پر ھم یعنی موٹا گوشت بر عایت مواضع مناسبہ چڑھایا جاتا ہے یہ وہی گوشت ہے کہ جب انسان تپ وو المجادلة : ٢٣ ے لئے سہو کا تب ہے۔(شمس)