آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 189

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۹ آئینہ کمالات اسلام پکڑ کر تمام صحن سینہ کو اس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس معرفت تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں حاصل ہو جاتی ہے اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے۔ یعنی بندہ کی روح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الہی جو میرا ہے سو تیرا ہے ۔ اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔ اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔ قُل يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اگر لوگ خدا تعالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور اس کے فرشتوں کا مشاہدہ کر لیتے تو پھر یہ معلومات بھی ان تمام معلومات کی مد میں داخل ہو جاتے جو انسان بذریعہ حواس یا تجارب حاصل کرتا ہے اس صورت میں ان امور کا ماننا موجب نجات نہ ٹھہر سکتا جیسا کہ اور دوسرے صدہا امور معلومہ کا ماننا موجب نجات نہیں ہے مثلاً ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ در حقیقت سورج اور چاند موجود ہیں اور زمین پر صد ہا قسم کے جانور صد با قسم کی بوٹیاں صد ہا قسم کی کانیں اور دریا اور پہاڑ موجود ہیں مگر کیا اس ماننے سے ہمیں کوئی ثواب حاصل ہوگا یا ہم ان چیزوں کا وجود قبول کرنے سے خدا تعالیٰ نطفہ سے کسی بچہ کو رحم میں بنانے کے لئے ارادہ فرماتا ہے تو پہلے مرد اور عورت کا نطفہ رحم میں ٹھہرتا ہے اور صرف چند روز تک ان دونوں منیوں کے امتزاج سے کچھ تغیر طاری ہو کر جے ہوئے خون کی طرح ایک چیز ہو جاتی ہے جس پر ایک نرم سی جھلی ہوتی ہے یہ جھلی جیسے جیسے الزمر: ۵۴ ۱۸۹