آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 187
روحانی خزائن جلد ۵۔ IAZ آئینہ کمالات اسلام اس لئے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں ۔ اور آنحضرت صلی (۱۸۷) اللہ علیہ وسلم کے اس زیادت علم کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا لے الجز نمبر ۵ یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کئے جو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا اور فضل الہی سے فیضان الہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف الہیہ اور اسرار اور علوم ربانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگر چہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم و صلوۃ اور دعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ بلکہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور اسی قاعدہ کے موافق ہر یک شخص اپنے اندازہ ا استعداد پر فرشتوں کے القا سے فیض یاب ہوتا ہے اور جس فن یا علم کی طرف کسی کا روئے خیال ہے اسی میں فرشتہ سے مدد پاتا ہے مثلاً جب اللہ جل شانہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی دوا سے کسی کو دست آویں تو طبیب کے دل میں فرشتہ ڈال دیتا ہے کہ فلاں مسہل کی دوا اسکو کھلا دو تب وہ تر بد یا خیار شیر یا شیر خشت یا سقمونیا یا سنا یا کسٹرائل یا کوئی اور چیز جیسے دل میں ڈالا گیا ہو اس بیمار کو بتلا دیتا ہے اور پھر فرشتوں کی تائید سے اس دوا کو طبیعت قبول کر لیتی ہے تے نہیں آتی جب فرشتے اس دوا پر اپنا اثر ڈال کر بدن میں کی رو سے یہ طرز بچہ کے بننے کی جو رحم عورت میں بنتا ہے ثابت نہیں ہوتی بلکہ برخلاف اس کے ثابت ہوتا ہے لیکن یہ اعتراض سخت درجہ یکم نبی یا صریح تعصب پر مبنی ہے اس بات کے تجربہ کے لئے کسی ڈاکٹر یا طبیب کی حاجت نہیں خود ہر یک انسان اس آزمائش کے لئے لا النساء : ۱۱۴ * سہو کا تب ہے۔ صحیح " طبر" ہے۔ (شمس) سہوکا ” شنبر‘