آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 186
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۶ آئینہ کمالات اسلام (۱۸۲) فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا لے یعنی جس کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔ حکمت سے مراد علم عظمت ذات و صفات باری ہے۔ اور خیر کثیر سے مراد اسلام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ، قرآن کریم میں فرماتا ے۔ هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ ۔ پھر ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے۔ قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔ کے یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم کامل بخش اور پھر دوسری جگہ فرمایا وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وأنا أول المُسْلِمِينَ کے ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے ۔ پانی کا کام لے سکتے ہیں بلکہ بادل کو اپنی تحریکات جاذبہ سے محل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں اور مد ترات امر بن کر جس کم اور کیف اور حد اور اندازہ تک ارادہ کیا گیا ہے برسا دیتے ہیں بادل میں وہ تمام قو تیں موجود ہوتی ہیں جو ایک بے جان اور بے ارادہ اور بے شر بے شعور چیز میں باعتبار اس کے جمادی حالت اور عنصری خاصیت کے ہو سکتے ہیں اور فرشتوں کی منصبی خدمت در اصل تقسیم اور تدبیر ہوتی ہے اس لئے وہ مقسمات اور مد تبرات کہلاتے ہیں اور القاء اور الہام بھی جو فرشتے کرتے ہیں وہ بھی بر عایت فطرت ہی ہوتا ہے مثلاً وہ الہام جو خدا تعالی کے برگزیدہ بندوں پر وہ نازل کرتے ہیں دوسروں پر نہیں کر سکتے گئے ہیں معقولی طور پر متحقق ہوتے ہیں ۔ اور نجوم ستہ کا اب بھی علوم حکمیہ میں جنین کی تکمیل ے کے لئے تعلق مانا جاتا ہے چنانچہ سدیدی میں اس کے متعلق ایک مبسوط بحث لکھی ہے ۔ بعض نادان اس جگہ اس آیت کی نسبت یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ حال کی طبی تحقیقا توں البقرة : ٢٧٠ یونس : ۵۹ طه : ۱۱۵ الانعام : ۱۶۴