آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 180
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۰ آئینہ کمالات اسلام ۱۸۰ استعمال یا مدد سے اس شے کا میسر آجانا ضروری ہوا اور اس کے عوض اس کی نقیض کا استعمال کرنا موجب بعد و نا کا می ہو ۔ بعد اس کے واضح ہو کہ اگر چہ قرآن کریم نے حقیقت اسلامیہ کی تحصیل کے لئے بہت سے وسائل بیان فرمائے ہیں مگر در حقیقت ان سب کا مال دو قسم پر ہی جا ٹھہرتا ہے۔ اول یہ کہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی مالکیت تامہ اور اس کی قدرت تامہ اور اس کی حکومت تامہ اور اس کے علم تام اور اس کے حساب تام اور نیز اس کے واحد لاشریک اور حتی قیوم اور حاضر ناظر ذ والاقتدار اور ازلی ابدی ہونے میں اور اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں اور جمیع جلال و کمال کے ساتھ یگانہ ہونے میں پورا پورا یقین آ جائے یاں تک کہ ہر ایک ذرہ اپنے وجود اور اس تمام عالم کے وجود کا اس کے تصرف اور حکم میں دکھائی دے اور یا ہڈیاں نہیں کر اس کی جڑھوں میں رکھتا ہے۔ ایسا ہی کانوں کی تحقیق میں دخل رکھنے والے اسی طور پر تجویز میں کیا کرتے ہیں اور اکثر یہ سب لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں پس اگر یہ سلسلہ ملائک کے ارادہ کے تابع ہے تو ہماری تدبیرات کے مقابل پر کیوں ملائک ٹھہر نہیں سکتے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں میں لوگ طبعی کی کامل تحقیقا توں سے بے بہرہ تھے انہیں دنوں میں ملائک کا وجود تراشا گیا ہے انسان کی عادت ہے کہ معلولات کے لئے کوئی نہ کوئی علت تلاش کرتا ہے پس جب کہ علت صحیحہ دریافت نہ ہو سکے تو بے علمی کے زمانہ میں ملائک کا وجود قوت متخیلہ کی تسکین دینے کے لئے تراشا گیا یہ حال جاتی ہے جگہ دی۔ قرار مکین کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ تارحم اور تھیلی دونوں پر اطلاق پاسکے ) اور پھر ہم نے نطفہ سے علقہ بنایا اور علقہ سے مضغہ اور مضغہ کے بعض حصوں میں سے ہڈیاں اور ہڈیوں پر پوست پیدا کیا پھر اس کو ایک اور پیدائش دی یعنی روح اس