آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 178

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۸ آئینہ کمالات اسلام (۱۷۸) آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن را ہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی ۔ غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی را ہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔ اب اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہو سکتی ہاں فہم اور ادراک حسب مراتب تقومی کم و بیش ہو سکتا ہے اسی مقام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی اور اعلیٰ درجہ کی کرامت جو اولیاء اللہ کو دی جاتی ہے جن کو تقویٰ میں کمال ہوتا ہے وہ یہی دی جاتی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نو ر رکھا جاتا ہے اور ان کی قوت کشفی نور کے پانیوں سے ایسی صفائی حاصل کر لیتی ہے کہ جو دوسروں آتے اور کیوں ان کی کسی مدد کا ہمیں احساس نہیں ہوتا اور ہم صریح دیکھتے ہیں کہ ہر یک چیز اپنی فطرتی طاقت سے کام دے رہی ہے مثلاً رحم میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے یا درختوں کو جو پھل لگتے ہیں یا کانوں میں جو طرح طرح کے جواہر پیدا ہوتے ہیں تو صرف اس ایک طبعی طریق سے جو چلا آتا ہے طبیعت مدیرہ حیوانی اور نباتی اور جمادی اپنے فعل کو کمال تک پہنچاتی ہے جیسا کہ حکماء کا قدیم سے یہی قول ہے اور تجربہ بھی اسی قول کا مؤید نظر آتا ہے کیونکہ کبھی ہم حیوانی اور نباتی اور جمادی افعال کو اپنے ارادوں کے بھی تابع کر لیتے ہیں یعنی اپنی تدبیروں کے موافق اپنے کام صادر کرا سکتے ہیں مثلاً رحم میں جو کبھی بچہ قبل از تکمیل خلقت ساقط ہو جاتا ہے اور انواع اور اقسام کا لب لباب تھا اور اس کی تمام قوتیں اپنے اندر رکھتا تھا تا وہ باعتبار جسم بھی عالم صغیر ٹھہرے اور زمین کی تمام چیزوں کی اس میں قوت اور خاصیت ہو جیسا کہ وہ برطبق آیت فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحی کے باعتبار روح عالم صغیر ہے الحجر : ٣٠