آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 177

روحانی خزائن جلد ۵ 122 آئینہ کمالات اسلام ہو جو علوم اور عقائد صحیحہ سے بے خبری اور ناراست اور بے ہودہ باتوں میں مبتلا ہونا سے اپکے ہے تو یہ تو صریح متقیوں کی صفت کے برخلاف ہے کیونکہ حقیقی تقوی کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی ۔ حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فَرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِہ ہے ۔ یعنی اے ایمان لانے والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا دونوں مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں کیونکہ تو حید فی النظام تو حید باری عز اسمہ کے مسئلہ کو مؤید ہے وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف کثیر پایا جاتا ۔ غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ملائک اللہ عالم کبیر کے لئے ایسے ہی ضروری ہیں جیسے قومی روحانیہ وحیہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے۔ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ اگر ملائک فی الحقیقت موجود ہیں تو کیوں نظر نہیں ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا ثُمَّ انْشَانُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِيْنَ " یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام سمان کو کیوں : اس بات کا ثبو الانفال : ٣٠ الحديد: ٢٩ المومنون: ۱۳تا ۱۵