آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 171
روحانی خزائن جلد ۵ 121 آئینہ کمالات اسلام اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا (121) الَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَأَوَى وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَأَغْنى یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال ( یعنی عاشق وجہ اللہ ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پا یا پس فنی کر دیا۔ ان معنوں کی صحت پر یہ ذیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو ان کے بعد آتی ہیں یعنی یہ کہ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبَّكَ فَحَدِّثُ - ۲ کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مد عامخفی ہے دوسری آیتیں اس کی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلاً پہلے فرمایا الَم يَجِدُكَ يَتِيمَا فَاوی اس کے مقابل پر یہ فرمایا فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ یعنی یا د کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔ پھر بعد اس آیت کے فرمایا وَوَجَدَكَ سکون اور اپنے تغیرات ظاہری اور باطنی اور اپنے ہر ایک خاصہ کے اظہار اور اپنے ہر ایک عرض کے اخذ یا ترک میں مستقل بالذات نہیں بلکہ اس ایک ہی حتی و قیوم کے سہارے سے یہ تمام کام مخلوق کے چلتے ہیں اور بظاہر اگر چہ یہی نظر آتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں کسی غیبی مدد کے محتاج نہیں جب چاہیں حرکت کر سکتے ہیں اور جب چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور جب چاہیں بول سکتے ہیں اور جب چاہیں چپ کر سکتے ہیں ۔ لیکن ایک عارفانہ نظر کے ساتھ ضرور کھل جائے گا کہ ہم اپنی ان تمام حرکات و سکنات اور سب کاموں میں غیبی مدد کے ضرور محتاج ہیں اور خدا تعالیٰ کی قیومیت ہمارے نطفہ میں ہمارے علقہ میں ہمارے لیکن ہزار ہا برس تک انکا ظہور نہ ہوا اور وہ ارادہ تو ابتدا ہی سے تھا مگر مخفی چلا آیا اور اپنے وقت پر ظاہر ہوا اور جب وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو ان فکروں اور سوچوں میں لگا دیا اور ان کی مدد کی یہاں تک کہ وہ اپنی تدبیروں میں کامیاب ہو گئے ۔ الضحى : ۷ تا ۹ الضحى : ۱۰ تا ۱۲