آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 164

روحانی خزائن جلده ۱۶۴ آئینہ کمالات اسلام (۱۲۴) کا نام اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کر سکے۔ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔ سبحان الله ما اعظم شانک یا رسول الله موسیٰ و عیسیٰ ہمہ خیل تواند جمله درین راه طفیل تواند پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال اپنے اندر رکھتی ہوں مختلف ہوں قابض ہوں جالی ہوں اور منیج اور مقطع مواد لزجہ ہوں اور سموم باردہ کا تریاق ہوں خاص کر عقرب کیلئے اور اخلاط غلیظہ اور رقیقہ کا مسہل ہوں اور حیض اور بول کی مدد ہوں اور جگر کو قوت دیتی ہوں اور اس کے اور نیز طحال اور امعاء کے سدے کھولتی ہوں اور ریحوں کو تحلیل کرتی ہوں اور پرانی کھانسی کو مفید ہوں اور ضیق النفس اور سل اور قرحہ ریہ وامعاء اور استقاء کی تمام قسموں اور یرقان سدی اور اسہال سدی اور ماساریقا اور ذ وستار یا اور تحلیل تلخ اور ریاح اور اورام باردہ احتشاد تخمه و مغص و بواسیر و نو اسیروپ ربع کو مفید ہوں ۔ اور جدوار کہتی ہے کہ میں تیسرے درجہ کے اول مرتبہ میں گرم اور خشک ہوں اور حرارت غریزی سے بہت ہی منا سبت رکھتی ہوں اور بقیه حاشیه در حاشیه | چل سکتا ہے اور آہستہ آہستہ چلنے سے وہ عاجز ہے بلکہ اس شخص کو کامل القدرت کہیں گے کہ جو دونوں طور جلد اور دیر میں قدرت رکھتا ہو یا مثلاً ایک شخص ہمیشہ اپنے ہاتھ کو لمبا رکھتا ہے اور اکٹھا کرنے کی