آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 151
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۵۱ آئینہ کمالات اسلام بے بنیاد تخیلات ہوتے ہیں بلکہ واقعی طور پر وہ خدا جس کی شان بـکـل خلق علیم ہے (۱۵۱) ایک قسم کے خلق کا تماشا دکھا دیتا ہے پس جب کہ اس قسم کے خلق اور پیدائش کا دنیا میں ہی نمونہ دکھائی دیتا ہے اور ہر یک زمانہ کے عارف اس کے بارے میں گواہی دیتے چلے آئے ہیں تو پھر وہ تمثلی خلق اور پیدائش جو آخرت میں ہوگی اور میزان اعمال نظر آئے گی اور پل صراط نظر آئے گا اور ایسا ہی بہت سے اور امور روحانی جسمانی تشکل کے ساتھ نظر آئیں گے اس سے کیوں عقل مند تعجب کرے۔ کیا جس نے یہ سلسلہ مثلی خلق اور پیدائش کا دنیا میں ہی عارفوں کو دکھا دیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید ہے کہ وہ آخرت میں بھی دکھاوے بلکہ ان تمثلات کو عالم آخرت سے نہایت مناسبت ہے، کیونکہ جس حالت میں اس عالم میں جو کمال انقطاع کا تجلی گاہ نہیں ہے یہ مٹی پیدائش تزکیہ یافتہ لوگوں پر ظاہر ہو جاتی ہے تو پھر عالم آخرت میں جو اکمل اور اتم انقطاع کا مقام ہے کیوں نظر نہ آوے۔ اور ہے خدا تعالیٰ جس چیز سے کوئی کام لینا چاہتا ہے اول اس کام کے متعلق جس قدر مصالح ہیں ان تمام مصالح کے مناسب حال اس چیز میں قومی رکھ دیتا ہے ۔ مثلاً ایک فعل خدا تعالیٰ کا بارش ہے جس کے انواع اقسام کے اغراض کے لئے ہمیں ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کے موافق کبھی اس بارش کو تین وقتوں پر نازل کرتا ہے اور افراط تفریط کے نقصانوں سے ہمارے کھیتوں اور ہماری صحتوں کو بچا لیتا ہے اور بھی دنیا پر ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخل بے جا ہے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فنا کی طرف اشارہ ہے الہی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم کون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے ہر یک جو بنایا گیا تو ڑا جائے گا اور ہر یک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر یک جسم متفرق اور ذرہ ذرہ ہو جائے گا اور ہر یک جسم اور جسمانی پر عام فنا طاری ہوگی۔ اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفجار کے الفاظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں ان سے ایسے معنے مراد نہیں ہیں جو کسی جسم صلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے