آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 145

روحانی خزائن جلد ۵ الده آئینہ کمالات اسلام ہے کہ آپ بھی جو مومن کو آتا ہے وہ نار جہنم میں سے ہے اور مومن بوجہ تپ اور دوسری (۱۴۵) تکالیف کے نار کا حصہ اسی عالم میں لے لیتا ہے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ مومن کیلئے اس دنیا میں بہشت دوزخ کی صورت میں متمثل ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف شاقہ جہنم کی صورت میں اس کو نظر آتی ہیں پس وہ بطیب خاطر اس جہنم میں وارد ہو جاتا ہے تو معا اپنے تئیں بہشت میں پاتا ہے۔ اسی طرح اور بھی احادیث نبویہ بکثرت موجود ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ مومن اسی دنیا میں نار جہنم کا حصہ لے لیتا ہے اور کا فر جہنم میں بجبر و اکراہ گرایا جاتا ہے لیکن مومن خدا تعالیٰ کیلئے آپ آگ میں گرتا ہے۔ ایک اور حدیث اسی مضمون کی ہے جس میں لکھا ہے کہ ایک حصہ نا ر کا ہر یک بشر کیلئے مقدر ہے چاہے تو وہ اس دنیا میں اس آگ کو اپنے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں قبول کر لیوے که قرآن کریم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ملائک آسمان پر ایک مستقل وجود رکھتے ہیں مگر کیا یہ دوسری بات بھی اسی کتاب عزیز کی رو سے کچی ثابت نہیں ہوتی کہ ملائکہ کا تعلق ہر ایک جرم سماوی سے ایک حافظا نہ تعلق ہے اور ہر ایک ستارہ اپنے بقا اور قیام اور صدورا فعال میں ملائکہ کی تائید کا محتاج ہے افسوس کہ یہ لوگ جو اپنے تئیں مولوی کہلاتے ہیں یوں تو مسلمانوں کو کافر جانے کے لئے ا ور ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م ماہر کی کہ وہ ہر اور یقین کرے نہیں دیکھتے پھر حق کے سمجھنے میں کیونکر کامیاب ہوں وہ قرآن کریم کا ذرا قدر نہیں کرتے اور اس کو نعوذ باللہ ایک موٹے خیالات کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کی اعلیٰ طاقتوں اور حاشیه و ہم کا کچھ بھی ثبوت ہے ایک ذرا بھی نہیں۔ پھر کیونکر ایک بے بنیاد و ہم کو قبول کیا جائے اور مان لیا جائے ۔ ہم کیونکر ایک قطعی ثبوت کو بغیر کسی مخالفانہ اور غالب ثبوت کے چھوڑ سکتے ہیں اور علاوہ اس کے اللہ جل شانہ کی اس میں کسر شان بھی ہے گویا وہ عام اور کامل خالقیت سے عاجز ا تھا تبھی تو تھوڑا سا بنا کر باقی بے انتہا فضا چھوڑ دی اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس استقرائی ثبوت کے انکار میں کہ کوئی فضا کسی جو ہر لطیف سے خالی نہیں کونسی یقینی اور قطعی دلیل ایسے شخصوں