آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 136
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۳۶ آئینہ کمالات اسلام ۱۳ مذموم معنی کیلئے استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے محمود اور قابل تعریف معنوں کیلئے استعمال ہوا ہے جو درجہ سابق بالخیرات سے حصہ لینے کے مستحق اور اس درجہ فاضلہ کے چھوٹے بھائی ہیں اور وہ معنے بجز اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ ظالم سے مراد اس قسم کے لوگ رکھے جائیں کہ جو خدا تعالیٰ کیلئے اپنے نفس مخالف پر جبر اور اکراہ کرتے ہیں اور نفس کے جذبات کم کرنے کیلئے دن رات مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں کیونکہ یہ تو لغت کی رو سے بھی ثابت ہے کہ ظالم کا لفظ بغیر کسی بنیں یہ تو در پردہ ملائک کا کام ہے سو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں اول حکمائے ظاہر کے طور پر بادلوں کے برسنے کا سبب بتلایا اور بیان فرمایا کہ کیونکر پانی بخار ہو کر بادل اور ابر ہو جاتا ہے اور پھر آخری فقرہ میں یعنی فَالْمُقَسّمتِ امرا میں حقیقت کو کھول دیا اور ظاہر کر دیا کہ کوئی ظاہر بین یہ خیال نہ کرے کہ صرف جسمانی علل اور معلولات کا سلسلہ نظام ربانی کیلئے کافی ہے بلکہ ایک اور سلسلہ علل روحانیہ کا اس جسمانی سلسلہ کے نیچے ہے جس کے سہارے سے یہ ظاہری سلسلہ جاری ہے اور پھر ایک دوسری جگہ فرماتا ہے ۔ وَالْمُرْسَلتِ عُرْفًا فَالْعُصِفْتِ عَصْفًا وَالنُّشِرَاتِ نَشْرًا۔ فَالْفَرِقْتِ فَرْقًا فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرًا یعنی قسم ہے ان ہواؤں کی اور ان فرشتوں کی جو نرمی سے چھوڑے گئے ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی اور ان فرشتوں کی جو زور اور شدت کے ساتھ چلتے ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں اور ان فرشتوں کی جو ان بادلوں پر موکل ہیں اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو ہر یک چیز کو جو معرض ذکر میں آ جائے کانوں تک پہنچاتی ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی المرسلات ۲ تا ۶