آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 135
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۳۵ آئینہ کمالات اسلام طریق عدل اور راستی کو چھوڑنے والا اور خدا تعالیٰ کی مخالفت کو اختیار کرنے والا ہے (۱۳۵) کیونکہ ایسے لوگوں کو تو قرآن کریم مردود اور مورد غضب ٹھہراتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ظالموں اور معتدین کو جو طریق عدل اور انصاف چھوڑ دیتے ہیں دوست نہیں رکھتا پھر وہ لوگ مورد فضل کیونکر ٹھہر سکتے ہیں اور کیونکر ان کا نام مصطفیٰ اور برگزیدہ اور چنا ہوا رکھا جاسکتا ہے۔ سوان یقینی اور قطعی دلائل سے ہمیں ماننا پڑا کہ اس جگہ ظالم کا لفظ کسی رکھتے ہیں ۔ پس اس تقریر سے وجود ملائک کا بوجہ احسن ثابت ہوتا ہے اور گو ہم پر ان کی گنہ کھل نہ سکے اور کھلنا کچھ ضرور بھی نہیں۔ لیکن اجمالی طور پر قانون قدرت کے توافق اور اتحاد پر نظر کر کے ان کا وجود ہمیں ماننا پڑتا ہے کیونکہ جس حالت میں ہم نے بطیب خاطر ظاہری قانون کو مان لیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہم اسی طرز اور طریق پر باطنی قانون کو تسلیم نہ کریں ۔ بے شک ہمیں باطنی قانون بھی اسی طرح قبول کرنا پڑے گا کہ جس طرح ہم نے ظاہری قانون کو مان لیا۔ یہی سر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں بعض جگہ ان دونوں قانونوں کو مشترک الفاظ میں بیان کر دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ وَالذُّرِيتِ ذَرُوا - فَالْحَمِلتِ وِقْرًا - فَالْجُرِيتِ يُسْرًا - فَالْمُقَسّمت أَمْرَ اے یعنی ان ہواؤں کی قسم ہے جو سمندروں اور دوسرے پانیوں سے بخارات کو ایسا جدا کرتی ہیں جو حق جدا کر نے کا ہے ۔ پھر ان ہواؤں کی قسم ہے جو ان گراں بار بخارات کو حمل دار عورتوں کی طرح اپنے اندر لے لیتی ہیں پھر ان ہواؤں کی قسم ہے جو بادلوں کو منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے چلتی ہیں ۔ پھر ان فرشتوں کی قسم ہے جو در پردہ ان تمام امور کے منصرم اور انجام دہ ہیں یعنی ہوائیں کیا چیز ہیں اور کیا حقیقت رکھتی ہیں جو خود بخود بخارات کو سمندروں میں سے اٹھا دیں اور بادلوں کی صورت بنا دیں اور عین محل ضرورت پر جا کر برساویں اور مقسم امور ل الذريت :۲تا۵