آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 134

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۳۴ آئینہ کمالات اسلام ۱۳۴ بندے اور مورد فضل قرار دے دیا ہے اور ان کو اپنے ان پیارے اور چنے ہوئے اور قابل تحسین لوگوں میں شمار کر لیا ہے جن سے وہ بہت ہی خوش ہے حالانکہ قرآن کریم اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ جل شانہ ظالموں سے پیار نہیں کرتا اور عدل کو چھوڑنے والے کبھی مورد فضل نہیں ہو سکتے۔ پس اس دلیل سے بہ بداہت معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں ظالموں کے گروہ سے مراد وہ گروہ نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کا سرکش اور نا فرمان اور مشرک اور کا فراور نہ ہو ۔ پس کیا اس سے یہ ثابت نہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے ہمارے قومی کی تکمیل اسباب خارجیہ میں رکھی ہے اور ہماری فطرت ایسی نہیں ہے کہ اسباب خارجیہ کی مدد سے مستغنی ہو اگر غور سے دیکھو تو نہ صرف ایک دو بات میں بلکہ ہم اپنے تمام حواس تمام قولی تمام طاقتوں کی تحمیل کے لئے خارجی امدادات کے محتاج ہیں پھر جب کہ یہ قانون اور انتظام خدائے واحد لاشریک کا جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے ہمارے خارجی قومی اور حواس اور اغراض جسمانی کی نسبت نہایت شدت اور استحکام اور کمال التزام سے پایا جاتا ہے تو پھر کیا یہ بات ضروری اور لازمی نہیں کہ ہماری روحانی تکمیل اور روحانی اغراض کیلئے بھی یہی انتظام ہوتا دونوں انتظام ایک ہی طرز پر واقع ہو کر صانع واحد پر دلالت کریں اور خود ظاہر ہے کہ جس حکیم مطلق نے ظاہری انتظام کی یہ بنا ڈالی ہے اور اسی کو پسند کیا ہے کہ اجرام سماوی اور عناصر وغیرہ اسباب خارجیہ کے اثر سے ہمارے ظاہر اجسام اور قومی اور حواس کی تکمیل ہو اس حکیم قادر نے ہماری روحانیت کیلئے بھی یہی انتظام پسند کیا ہوگا کیونکہ وہ واحد لا شریک ہے اور اس کی حکمتوں اور کاموں میں وحدت اور تناسب ہے اور دلائل انیہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔ سو وہ اشیاء خارجیہ جو ہماری روحانیت پر اثر ڈال کر شمس اور قمر اور عناصر کی طرح جو اغراض جسمانی کیلئے مد ہیں ہماری اغراض روحانی کو پورا کرتی ہیں انہیں کا نام ہم ملائک