آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 133
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۳۳ آئینہ کمالات اسلام اور مشیتوں سے ایسا پیار کرتے ہیں کہ جیسا خدا تعالیٰ ان امور سے پیار کرتا ہے اسی (۱۳۳) وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کے امتحانوں کے وقت پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ چند قدم آگے رکھ دیتے ہیں ۔ پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ ان تینوں گروہوں پر میرا بڑا فضل ہے یعنی ظالم بھی مورد فضل اور برگزیدہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اور ایسا ہی مقتصد بھی اور سابق بالخیرات تو خود ظاہر ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے ظالموں کو بھی اپنے برگزیدہ اور ہر طرفہ العین میں اس قادر مطلق سے اذن پا کر انواع اقسام کے تصرفات میں مشغول ہیں اور نہ عبث طور پر بلکہ سرا سر حکیمانہ طرز سے بڑے بڑے مقاصد کیلئے اس کرہ ارض و سما کو طرح طرح کی جنبشیں دے رہے ہیں اور کوئی فعل بھی ان کا بے کار اور بے معنی نہیں ۔ اور ہم فرشتوں کے وجود اور ان کی ان خدمات پر کسی قدر اسی رسالہ میں بحث کر آئے ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ فرشتوں کا وجود ماننے کیلئے نہایت سہل اور قریب راہ یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کی توجہ اس طرف مبذول کریں کہ یہ بات طے شدہ اور فیصل شدہ ہے کہ ہمارے اجسام کی ظاہری تربیت اور تحمیل کے لئے اور نیز اس کام کیلئے کہتا ہمارے ظاہری حواس کے افعال مطلوبہ کما ینبغی صادر ہو سکیں خدا تعالیٰ نے یہ قانون قدرت رکھا ہے کہ عناصر اور شمس و قمر اور تمام ستاروں کو اس خدمت میں لگا دیا ہے کہ وہ ہمارے اجسام اور قومی کو مدد پہنچا کر ان سے بوجہ احسن ان کے تمام کام صادر کرا دیں اور ہم ان صداقتوں کے ماننے سے کسی طرف بھاگ نہیں سکتے کہ مثلاً ہماری آنکھ اپنی ذاتی روشنی سے کسی کام کو بھی انجام نہیں دے سکتی جب تک آفتاب کی روشنی اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور ہمارے کان محض اپنی قوت شنوائی سے کچھ بھی سن نہیں سکتے جب تک کہ ہوا متکلیف بصوت ان کی ممدو معاون