آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 120
نزول در حقیقت تمثلی طور پر ہی ہوتا ہے اور وہ آسمان پر ہی رہتے ہیں اور زمین پر وہ اپنی تما شیخ عبد الحق صاحب محدث دہلوی کی اپنی یہ ذاتی کر روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۰ آئینہ کمالات اسلام ۱۲۰ جو بعض اوقات دحیہ کلبی کی صورت میں یا کسی اور انسان کی صورت میں ہوتا تھا اس میں اہل نظر کو اشکال ہے اور یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر در حقیقت جبرائیل علیہ السلام ایک نیا جسم اپنے لئے مشابہ جسم دحیہ کلبی حاصل کر کے اس میں اپنا روح داخل کر دیتے تھے تو پھر وہ اصلی جسم انکا جس کے تین سو جناح ہیں کس حالت میں ہوتا تھا کیا وہ جسد بے روح پڑا رہتا تھا اور حضرت جبرائیل فوت ہو کر پھر بطریق تناسخ دوسرے جسم میں آجاتے تھے۔ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں کہ اہل تحقیق کے نزدیک یہ تمثلی نزول ہے نہ حقیقی تا حقیقتاً ایک جسم کو چھوڑنا اور دوسرے جسم میں داخل ہونا لازم آوے۔ پھر لکھتے ہیں بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے ذہن میں جو دحیہ کلبی کی صورت علمیہ تھی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بوجہ قدرت کاملہ و ارادت شاملہ اپنی کے اس صورت پر اپنے وجود قرار دیا ہے کہ عللِ مادیہ اور اسباب عادیہ ان چیزوں کے دریافت کر کے نظامِ ظاہری کا ایک با قاعدہ سلسلہ مقرر کر دیا جائے۔ لیکن قرآن کریم میں روحانی نظام کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک فعل اُس کے دوسرے فعل کا مزاحم نہیں ہوسکتا پس کیا یہ تعجب کی جگہ ہو سکتی ہے کہ جسمانی اور روحانی نظام خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں بالخصوص جس حالت میں ہمیشہ ربانی مصلح دنیا میں آتے رہتے ہیں اور خدا تعالی کے بڑے بڑے ارادوں کی حرکت شروع رہتی ہے اور کوئی صدی ایسی نہیں آتی کہ جو دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں ان اُمور میں سے کسی امر کا ظہور نہ ہو تو اس بات کے ماننے کیلئے ذرہ بھی استبعاد باقی نہیں رہتا کہ کثرت شہب وغیرہ روحانی طور پر ضرور خدا تعالیٰ کے اس روحانی انتظام کے تجدد اور حدوث پر دلالت کرتے ہیں جو الہی دین کی تقویت کیلئے ابتداء سے چلا آتا ہے خاص کر جب اس بات کو ذہن میں خوب یا درکھا جائے کہ کثرت سقوط شہب وغیر ہ صرف اسی امر سے براہ راست ھتی ہے بلکہ تمام حقق گئے ہیں کہ جبرائیل تمثلی طور پر نظر آگئے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَتَمَثْلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا لا پنے وجود کو دکھلا دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ جبرائیل پر کچھ موقوف نہیں تمام ملائکہ کا مریم : ۱۸