آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 118
روحانی خزائن جلده ۱۱۸ آئینہ کمالات اسلام (۱۸) حکم ہوا کہ آنحضرت صلعم کے ملازم خدمت رہیں پس اسرافیل ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور اپکا بر امت میں سے کوئی اس سے منکر نہیں کہ وحی کا زمانہ تو وحی کا زمانہ ہے اس زمانہ سے پہلے بھی ملا ایک وحی ہر دم اور ہر وقت آنحضرت صلعم کے ساتھ ساتھ رہے ہیں چنانچہ حضرت جبرائیل انتیس سال تک برابر قبل از وحی قرآن ہر دم قرین اور مصاحب تھے اور یہ بات بالکل خلاف قیاس ہے کہ جب وحی قرآن کا نزول نہیں تھا اس وقت تو فرشتہ جبرائیل ہر وقت اور ہر لحظہ حاضر اور قرتین رے اور جب وحی قرآن کا وقت آیا اور دوام قرب کی ضرورتیں بھی پیش آئیں تب جبرائیل اپنی پہلی عادت کو ترک کر دیو نے اور تنہا چھوڑ کر آسمان پر چلا جانا اور پھر بسا اوقات کئی مہینے منہ نہ دکھلانا اختیار کر لیے۔ صلعم کے پاس رہتا تھا اور آنحضرت صلعم کی عمر کا گیارھواں سال پورا ہونے تک یہی حال تھا مگر اسرافیل بجرے کلمہ دوکلمہ کے اور کوئی بات وحی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہیں ڈالتا تھا ایسا ہی میکائیل بھی آنحضرت کا قرین رہا۔ پھر بعد اس کے حضرت جبرائیل کو حکم ہوا اور وہ پورے اُنتیس سال قبل از وحی ہر وقت قرین اور مصاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر بعد اس کے وحی نبوت شروع ہوئی۔ اس بیان سے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جن بزرگوں نے مثلاً حضرت جبرائیل کی نسبت لکھا ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی انتیس سال تک ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دائگی رفیق تھا اُن کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جبرائیل کسی وقت آسمان پر بھی چلا جاتا تھا تراشیدہ کے برخلاف کوئی امر ظہور میں آتا ہے تو ایک سخت پریشانی اور حیرت اُن کو لاحق ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ کا ایک غل غپاڑہ اُن میں اٹھتا ہے۔ یورپ کے ہیئت دان اور سائنس اور نجوم میں بڑی بڑی لانہیں مارنے والے ہمیشہ کائنات الجو اور اُن کے نتائج کے بارہ میں پیشگوئیاں ایک بڑے دعوے کے ساتھ شائع کیا کرتے ہیں اور کبھی لوگوں کو قحط سالیوں سے ڈراتے اور طوفانوں اور آندھیوں کی پیش خبری سے دھڑ کے میں ڈالتے اور کبھی بر وقت کی بارشوں اور ارزانی کی امیدیں دیتے ہیں مگر قدرت حق ہے کہ اکثر وہ اُن خبروں میں جھوٹے نکلتے ہیں مگر بایں ہمہ پھر بھی لوگوں کے دماغوں کو ناحق پریشان کرتے رہتے ہیں یوں تو وہ اپنے فکروں کو دور تک پہنچا کر خدائے عز وجل کی خدائی میں ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں مگر حکمت از لی ہمیشہ اُن کو شرمندہ کرتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی فاش خطا ہمیشہ ثابت ہوتی رہتی ہے اُن کی نسبت کیونکر گمان کر سکتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے نظام اور سائنس کے