آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 109
روحانی خزائن جلد ۵ 1+9 آئینہ کمالات اسلام قرین مصلحت سمجھا ہے تب وہ سب اُس کے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔ پھر جبرائیل اس وحی کو ۱۰۹ اس جگہ پہنچا دیتا ہے جس جگہ پہنچانے کے لئے اُس کو حکم تھا خواہ آسمان یا زمین ۔ اب اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نزول وحی کے وقت جبرائیل آسمان پر ہی ہوتا ہے اور پھر جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اُس کی آواز میں قوت اور قدرت بخشی ہے اپنے محل میں اُس وحی کو پہنچا دیتا ہے۔ اس صورت میں یہ عقیدہ رکھنا کہ گویا جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمانوں سے ہجرت کر کے حضرت عیسی کے پاس آ گیا تھا اور تینتیس برس برابر اُن کے پاس رہا اور وہ تمام خدمات جو آسمانوں پر اُس کے سپر د تھیں جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں وہ تینتیس برس تک معرض التوا میں رہیں کیسا باطل عقیدہ ہے جس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وحی بغیر توسط جبرائیل کے خود بخو دزمین پر نازل ہوتی تھی اور زمین پر ہی وہ وحی جبرائیل کو مل جاتی تھی ۔ حکایت مجھ کو یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں مندرج ہے یا احمد بارک الله فیک ما رميت اذ رميت ولكن الله رمى الرحمن علم القرآن۔ لتنذر قومًا ما انذر آباء هم و لتستبين سبيل المجرمين۔ قُل انى امرت و انا اول المؤمنین ۔ یعنی اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی اور جو تو نے چلایا یہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا اس عقیدہ کے بطلان کا بیان کہ جبرائیل رہائش اختیار کر لی تھی ۔ ن اصلی وجود کے ساتھ اپنی سرگذشت کی نسبت ایک حکایت اُس نے تجھے علم قرآن کا دیا تا تو ان کو ڈرا دے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے ۔ اور تا مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی سعید لوگ الگ ہو جائیں اور شرارت پیشہ لو اور سرکش آدمی الگ ہو جائیں اور لوگوں کو کہہ دے کہ میں مامور ہو کر آیا ہوں اور میں