آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 108
روحانی خزائن جلده ۱۰۸ آئینہ کمالات اسلام وحی کس طور سے پیدا ہوتی ہے اور پھر کیونکر انبیاء پر نازل ہوتی ہے (۱۸) کی اُس پر ہوتی ہے تب اُس مجوب المفہوم کلام سے ایک لرزہ آسمانوں پر پڑ جاتا ہے۔ جس سے وہ ہولناک کلام تمام آسمانوں میں پھر جاتا ہے اور کوئی نہیں سمجھتا کہ اس کے کیا معنی ہیں اور خوف الہی سے ہر ایک فرشتہ کا پنپنے لگتا ہے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے اور اس ہولناک آواز کوسن کر ہر یک فرشتہ پر غشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں ۔ پھر سب سے پہلے جبرائیل علیہ الصلوۃ والسّلام سجدہ سے سر اٹھاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس وحی کی تمام تفصیلات اُس کو سمجھا دیتا ہے اور اپنی مراد اور منشاء سے مطلع کر دیتا ہے تب جبرائیل اُس وحی کو لے کر تمام فرشتوں کے پاس جاتا ہے جو مختلف آسمانوں میں ہیں اور ہر یک فرشتہ اُس سے پوچھتا ہے کہ یہ آواز ہولناک کیسی تھی اور اس سے کیا مراد تھی تب جبرائیل اُن کو یہ جواب دیتا ہے کہ یہ ایک امر حق ہے اور خدا تعالیٰ بلند اور نہایت بزرگ ہے یعنی یہ وحی ان حقائق میں سے ہے جن کا ظاہر کرنا اُس اَلْعَلِيُّ الْكَبِير نے چند سال پہلے ظہور میں آجاتے ہیں اور کبھی عین ظہور کے وقت جلوہ نما ہوتے ہیں اور کبھی اُس کی کسی اعلی فتحیابی کے وقت یہ خوشی کی روشنی آسمان پر ہوتی ہے۔ قرآن کریم سے شہب کی نسبت کیا مستنبط ہوتا ہے بقیه حاشیه ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سدی سے روایت کی ہے کہ شہب کا کثرت سے گرنا کسی نبی کے آنے پر دلالت کرتا ہے یا دین کے غلبہ کی بشارت دیتا ہے مگر جو کچھ اشارات نص قرآن کریم سے سمجھا جاتا ہے وہ ایک مفہوم عام ہے جس سے صاف اور صریح طور پر مستنبط ہوتا ہے کہ جب کوئی نبی یا وارث نبی زمین پر مامور ہو کر آوے یا آنے پر ہو یا اُس کے ارباصات ظاہر ہونے والے ہوں یا کوئی بڑی فتحیابی قریب الوقوع ہو تو ان تمام صورتوں میں ایسے ایسے آثار آسمان پر ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے انکار کرنا نادانی ہے کیونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا ۔ بعض مصلح اور مجدد دین دنیا میں ایسے آتے ہیں کہ عام طور پر دنیا کو اُن کی بھی خبر نہیں ہوتی۔