آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 107

روحانی خزائن جلد ۵ 1+2 آئینہ کمالات اسلام صلى الله عليه وسلم اذا اراد الله تبارک و تعالی آن یوحی بامره تكلم ۱۰۷) بالوحى فاذا تكلم اخذت السموات منه رجفة او قال رعدة شديدة من خوف الله تعالى فاذا سمع بذلك اهل السموات صعقوا و خروا الله سجدا فيكون أوّل من يرفع راسه جبرائيل عليه الصلوة والسّلام فكلمه الله من وحيه بما اراد فيمضى به جبرائیل علیه الصلوة والسلام على الملائكة | كـلـهـا مـن سـماء الى سماءٍ يسئله ملائكتها ماذا قال ربنا يا جبرئيل فيقول | عليه السلام قال الحق و هـو الـعـلـى الكبير فيقولون كلهم مثل ما قال جبرائيل فينتهى جبرائيل بالوحي الى حيث امره الله تعالى من السماء والارض یعنی نو اس بن سمعان سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس وقت خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ وہ کوئی امروحی اپنی طرف سے نازل کرے تو بطور وحی متکلم ہوتا ہے یعنی ایسا کلام کرتا ہے جو ابھی اجمال پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک چادر پوشیدگی کہ کوئی نبی اور مہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کا ہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اس لئے خدا تعالی نے وہی بد یہی امراُن کے سامنے قسم کے پیرایہ میں پیش کیا تا اُن کو اس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے f انسان کا ساختہ پر داختہ نہیں۔ اگر یہ سوال پیش ہو کہ شہب کا گر نا اگر کسی نبی یا مہم یا محدث کے مبعوث ہونے پر دلیل ہے تو پھر کیا وجہ کہ اکثر ہمیشہ شہب گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے کوئی نبی یا محدّث دنیا میں نزول فرما نہیں ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکم کثرت پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس زمانہ میں یہ واقعات کثرت سے ہوں اور خارق عادت طور پر اُن کی کثرت پائی جائے تو کوئی مرد خدا دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے بھی یہ واقعات ارہاص کے طور پر اس کے وجود سے اس سوال کا جواب کہ شہب تو ہمیشہ گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے ہمیشہ نبی ظاہر نہیں ہوتے ۔ کا ہنوں کے لئے اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا کہ کثرت سقوط شہب کی کسی نبی اللہ کے ظہور پر وحی انبیاء پر کس طور سے نازل ہوتی ہے دلالت ہے کیونکہ اُن کے شیاطین کثرت شہب کے ایام میں سماوی اخبار سے بکلی محروم رہتے تھے ۔