آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 103

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۰۳ آئینہ کمالات اسلام وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم ايد حسان بروح (۱۰۳) القدس كما نافح عن نبیک ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت کے لئے مسجد میں منبر رکھا اور حستان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار سے جھگڑتا تھا اور اُن کی ہجو کا مدح کے ساتھ جواب دیتا تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حستان کے حق میں دعا کی اور فرمایا کہ یا الہی حستان کو روح القدس کے ساتھ یعنی جبرائیل کے ساتھ مدد کر اور ابو داؤد نے بھی ابن سیرین سے اور ایسا ہی ترندی نے بھی یہ حدیث لکھی ہے اور اُس کو حسن صحیح کہا ہے ۔ اور بخاری اور مسلم میں بطول الفاظ یہ حدیث بھی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان کو کہا اجب عنى اللهم ایده بروح القدس ۔ یعنی میری طرف سے (اے حستان ) کفار کو جواب دے یا الہی اس کی روح القدس سے مدد فرما۔ ایسا ہی حستان کے حق میں ایک یہ بھی حدیث ہے عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى - ذُوْمِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى اے الجز نمبر ۲۷ سورة النجم یعنی قسم ہے تارے کی جب طلوع کرے یا گرے کہ تمہارا صاحب بے راہ نہیں ہوا اور نہ بہک گیا اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ اس کی ہر یک کلام تو وحی ہے جو نازل ہو رہی ہے جس کو سخت قوت والے یعنی جبرائیل نے سکھلایا ہے وہ صاحب قوت اس کو پورے طور پر نظر آیا اور وہ کنارہ بلند پر تھا۔ اس قسم کے کھانے سے مدعا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا امر کہ کفار کی نظر میں ایک نظری امر ہے ان کے ان مسلمات کی رُو سے ثابت کر کے دکھلایا جاوے جو اُن کی نظر میں بد یہی کا حکم رکھتے تھے۔ النجم : ٢ تا ٨ اب جاننا چاہیے کہ عرب کے لوگ بوجہ ان خیالات کے جو کاہنوں کے ذریعہ سے حسان بن ثابت کے لئے تائید روح القدس کے بارے میں بعینہ و استعمال کئے گئے جو قرآن کریم ہے کہ اس مقام میں ان الفاظ کے یہی معنے ہوں کہ روح القدس دائمی طور پر حضرت عیسی کو دیا گیا تھا اور ایک طرفہ العین ان سے جدا نہیں ہوتا تھا لہذا بوجہ اتحاد الفاظ اس جگہ بھی وہی معنے ہونے چاہیئے ۔