آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 98
روحانی خزائن جلد ۵ ۹۸ آئینہ کمالات اسلام تو خدا تعالیٰ تمہیں وہ چیز عطا کرے گا ( یعنی روح القدس ) جس کے ساتھ تم غیروں سے امتیاز گئی پیدا کر لو گے۔ اور تمہارے لئے ایک نور مقرر کر دے گا (یعنی روح القدس ) جو تمہارے ساتھ ساتھ چلے گا۔ قرآن کریم میں روح القدس کا نام نور ہے۔ پھر ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے ۔ إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَولِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لیے یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ جل شانہ ہے پھر اپنی ثابت قدمی دکھلاتے ہیں کہ کسی مصیبت اور آفت اور زلزلہ اور امتحان سے اُن کے صدق میں ذرہ فرق نہیں آتا اُن پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم ذرا خوف نہ کرو اور نہ غمگین ہو۔ اور اُس بہشت کے تصور سے شادان اور فرحان رہو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ہم تمہارے متولی اور تمہارے پاس ہر وقت حاضر اور قریب ہیں کیا دنیا میں قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے۔ تا قانونِ قدرت جو خدا تعالیٰ کی ایک فعلی کتاب ہے اس کی قولی کتاب پر شاہد ہو جائے اور تا اس بقيه حاشيه کے قول اور فعل کی باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہو اور یہ ایک عام طریق اللہ جل شانہ کا قرآن کریم میں ہے کہ اپنے افعال قدرتیہ کو جو اُس کی مخلوقات میں باقاعدہ منضبط اور مترتب پائے جاتے ہیں اقوال شرعیہ کے حل کرنے کے لئے جابجا پیش کرتا ہے تا اس بات کی طرف لوگوں کو توجہ دلا دے کہ یہ شریعت اور یہ تعلیم اُسی ذات واحد لاشریک کی طرف سے ہے جس کے ایسے افعال موجود ہیں جو اُس کے ان اقوال سے مطابقت کتنی رکھتے ہیں کیونکہ اقوال کا افعال سے مطابق آجانا بلا شبہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ جس کے یہ افعال ہیں اُسی کے یہ اقوال ہیں۔ اب ہم نمونہ کے طور پر اُن چند قسموں کی تفسیر لکھتے ہیں جو قرآن کریم میں حم السجدة : ٣٢٣١ مصاحبت اختیار کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے تمام کا روبار میں اُس کے خادم ہوتے ہیں۔ اس بات کا بیان کہ جب انسان کامل ایمان اور کامل استقامت کو پہنچ جاتا ہے تو فرشتے اس پر اترتے ہیں اور دائمی تا انسان کو اس طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ تمام اقوال اور افعال ایک ہی چشمہ میں سے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں اپنی بعض مخلوقات کی قسمیں کھائی ہیں ان میں ایک بڑا بھید یہ بھی ہے کہ