آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 97
روحانی خزائن جلده ۹۷ آئینہ کمالات اسلام ایسی دب جاتی ہے کہ گویا اُس کا کچھ بھی وجود نہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ گروہ تین ہیں جیسا کہ اللہ (۹۷) جل شانہ فرماتا ہے فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِد وَمِنْهُمْ سَابِقُ بِالْخَيْراتِ ۚ یعنی ایک وہ گروہ ہے جن پر شیطانی ظلمت غالب ہے اور روح القدس کی چمک کم ہے اور دوسرے وہ گروہ ہے جو روح القدس کی چمک اور شیطانی ظلمت اُن میں مساوی ہیں اور تیسرے وہ گروہ ہے جن پر روح القدس کی چمک غالب آ گئی ہے اور خیر محض ہوگئی ہیں۔ روح القدس کے بارہ میں جو قرآن کریم میں آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے کامل مومنوں کو روح القدس دیا جاتا ہے منجملہ ان کے ایک یہ آیت ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِہ یعنی اے وے لوگو جوایمان لائے ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہو قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے غیر اللہ کی قسم کھائی ۔ کیونکه و و در حقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اس کے افعال اُس کے غیر نہیں ہیں مثلاً اُس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس نیت سے ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔ سو در حقیقت خدا تعالیٰ کی اس قسم کی قسمیں جو قرآن کریم میں موجود ہیں بہت سے اسرار معرفت سے بھری ہوئی ہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ قسم کی طرز پر ان اسرار کا بیان کرنا محض اس غرض سے ہے کہ قسم در حقیقت ایک قسم کی شہادت ہے جو شاہد رویت کے قائم مقام ہو جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض افعال بھی بعض دوسرے افعال کے لئے بطور شاہد کے واقعہ ہوئے ہیں سو اللہ تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانونِ فاطر : ۳۳ الانفال :٣٠ الحديد : ٢٩ خدا تعالیٰ نے قرآ ہے کہ تا اپنے اقوال پر اپنے قانون قدرت کی شہادت پیش کرے یا بدیہی اور مسلم کے ذریعہ سے نظری اور غیر مسلم کی حقانیت کھول دے قرآن کریم میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن سے ثابت ہے ہے کہ کامل مومنوں کو ہمیشہ کے لئے روح القدس دیا جاتا ہے۔