آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 93

روحانی خزائن جلده ۹۳ آئینہ کمالات اسلام کے لئے ہمیشہ اور ہر دم کے لئے اُس کا قرین اور مصاحب مقرر کرے تا وہ اُس کے ایمان کی ۹۳ بیخ کنی کے فکر میں رہیں اور ہر وقت اُس کے خون اور اُس کے دل اور دماغ اور رگ وریشہ میں اور آنکھوں اور کانوں میں گھس کر طرح طرح کے وساوس ڈالتے رہیں ۔ اور ہدایت کرنے کا ایسا قرین جو ہر دم انسان کے ساتھ رہ سکے ایک بھی انسان کو نہ دیا جائے۔ یہ اعتراض در حقیقت اُن کے عقیدہ مذکورہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ لوگ بموجب آیت وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُوم کے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل اور عزرائیل یعنی ملک الموت کا مقام آسمان پر مقرر ہے جس مقام سے وہ نہ ایک بالشت نیچے اتر سکتے ہیں نہ ایک بالشت او پر چڑھ سکتے ہیں اور پھر باوجود اس کے اُن کا زمین پر ان دونوں حضرتوں کے نزدیک قابل اعتبار نہیں ہوں گی کیونکہ وحی کی روشنی سے ہے خالی ہیں اور اُن کے نزدیک اُن دنوں میں خوابوں کا سلسلہ بھی بکتی بند تھا ۔ اب منصفو دیکھو کہ کیا ان دونوں شیخوں کی بے ادبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت انتہا کو پہنچ گئی یا نہیں وہ آفتاب صداقت جس کا کوئی دل کا خطرہ بھی بغیر وحی کی تحریک کے نہیں اُس کے بارے میں ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا وہ نعوذ باللہ مدتوں ظلمت میں بھی پڑا رہتا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی روشنی نہ تھی ۔ اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس۔ Savosse Pe Bizovi f بکلی علیحدہ ہونا تجویز کیا ہے مگر حضر ہے کہ آنحضرت صلع یز نہیں کیا ۔ یہ ان کے علم اور معرفت کا ایک نمونہ ہے ۔ کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قومی میں کام کرتی ہے رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائگی اور استقامت دائگی اور محبت دائگی اور عصمت دائمی اور برکات دائگی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس الصافات: ۱۶۵