آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 92

روحانی خزائن جلده ۹۲ آئینہ کمالات اسلام بطالوی اور نذیرحسین نے عیسائیوں وغیرہ کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ دے دیا اور اپنی سمجھ کے نقص کو اسلام پر تھا یا ۔ ۹۲ اس بات پر اصرار کیا کہ ضرور جبرائیل اور ملک الموت اور دوسرے فرشتے اپنے اصلی وجود کے ساتھ ہی زمین پر نازل ہوتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر رہ کر آسمان پر چلے جاتے ہیں ۔ جب آسمان سے اُترتے ہیں تو آسمان اُن کے وجود سے خالی رہ جاتا ہے اور پھر جب زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرتے ہیں تو زمین اُن کے وجود سے خالی رہ جاتی ہے تو صد با اعتراض قرآن اور حدیث اور عقل کے اُن پر دارد ہوئے چنانچہ منجملہ ان بلاؤں کے جو ان کے اس عقیدہ کے لازم حال ہو گئیں ایک یہ بھی بلا ہے جو خدا تعالیٰ کے روحانی انتظام کا عدل اور رحم جاتا رہا اور کفار اور تمام مخالفین کو اسلام پر یہ اعتراض کرنے کے لئے موقعہ ملا کہ یہ کیسی سخت دلی اور خلاف رحم بات ہے کہ خدا تعالی شیطان اور اُس کی ذریت کو انسان کی اغوا ہو رہی ہے اس کی نسبت کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ مدتوں نو روحی سے بکلی خالی ہی رہ جاتا تھا۔ مثلاً یہ جو منقول ہے کہ بعض دفعہ چالیس دن اور بعض دفعہ ہیں دن اور بعض دفعہ اس سے زیادہ ساٹھ دن تک بھی وحی نازل نہیں ہوئی ۔ اگر اس عدم نزول سے یہ مراد ہے کہ فرشتہ جبرائیل بکلی آنحضرت صلعم کو اس عرصہ تک چھوڑ کر چلا گیا تو یہ سخت اعتراض پیش آئے گا کہ اس مدت تک جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں کیں کیا وہ احادیث نبویہ میں داخل نہیں تھیں اور کیا وحی غیر متلو اُن کا نام نہیں تھا اور کیا اس عرصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خواب بھی نہیں آتی تھی جو بلا شبہ وجی میں داخل ہے اور اگر حضرت بٹالوی صاحب اور میاں نذیر حسین دہلوی بچے ہیں اور یہ بات صحیح ہے کہ ضرور مدتوں جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھی چلا جاتا تھا اور آنحضرت بکلی وحی سے خالی رہ جاتے تھے تو بلاشبہ ان دنوں کی احادیث اگر ہمارے نبی صلعم چالیس دن یا زیادہ دنوں تک روح القدس سے بلکلی مہجور ہوتے تھے تو ان مدتوں کے کلمات احادیث میں داخل نہیں ہونے چاہیئے نہ ان کو الہامی کہنا چاہیئے ۔