آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 91
روحانی خزائن جلد ۵ ۹۱ آئینہ کمالات اسلام یا بہت ہی تھوڑے عرصہ کے لئے اور پھر آسمان پر جبرائیل چڑھ جاتا ہے اور ان کو خالی 919 ) چھوڑ دیتا ہے بلکہ بسا اوقات چالیس چالیس روز بلکہ اس سے بھی زیادہ روح القدس یا یوں کہو کہ جبرائیل کی ملاقات سے انبیاء محروم رہتے ہیں مگر دوسرا قرین جو شیطان ہے وہ تو نعوذ باللہ اُن کا ساتھ ایک دم بھی نہیں چھوڑ تا گو آخر کو مسلمان ہی ہو جائے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ مجوب اور حقائق قرآن کریم سے غافل اور بے نصیب ہیں اور گھلے طور پر ان کا یہ عقیدہ بھی نہیں بلکہ نادانی اور قلت تدبر اور پھر اس عاجز کے ساتھ بخل اور کینہ ورزی کی وجہ سے اس بلا میں پڑ گئے ہیں کیونکہ اس عاجز کے مقابل پر جن راہوں پر یہ لوگ چلے اُن را ہوں میں یہ آفات موجود تھیں اس لئے نادانستہ اُن میں پھنس گئے جیسا کہ ایک پرندہ نا دانستہ کسی دانہ کی طمع سے ایک جال میں پھنس جاتا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے اپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہیئے کہ مقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں ۔ اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اُس سے مراد صرف ایک قسم کی تجلی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الہی اس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہو گئی ہے اور اصطلاح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تجلتی ہے ورنہ ذرہ سوچنا چاہیئے کہ جس آفتاب صداقت کے حق میں یہ آیت ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحی یوحی یعنی اُس کا کوئی نطق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہوا کی طرف سے نہیں وہ تو سرا سر وحی ہے جو اُس کے دل پر نازل النجم: ۵،۴ ۔ ہتے ہیں مگر دوسرا قرین لا ایک اس تجلی کے وقت متمثل ہو کر نظر بھی آ جاتے ہیں اور اگر اس تجلی میں دیر ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ نزول میں دیر ہوگئی ہے روح القدس کے دائی قرب کی مثال ایسی ہے کہ جیسے آگ پتھر میں ہمیشہ ہوتی ہے اور اسکی تجلی یہ ہے کہ کسی ضرب سے اس میں چنگیاری پیدا ہو جائے۔ بطالوی اور دہلوی کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء بھی اکثر صحبت روح اور لوگوں کی طرح ہر وقت ان کے ساتھ بھی رہتا ہے گو اُن پر قابونہیں پاتا مگر کہتے ہیں کہ عیسی کے ساتھ کوئی شیطان نہیں تھا اور روح القدس تو اس کے ساتھ ہی آیا اور ساتھ ہی آسمان پر گیا ۔