آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 87
روحانی خزائن جلد ۵ ۸۷ آئینہ کمالات اسلام یقینی طور پر ہم پر کھول دیا کہ وہ مُمدات اور معاونات خارج میں موجود (۸۷ ہیں گو ا نکی کنہ اور کیفیت ہم کو معلوم ہو یا نہ مگر یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ نہ براه راست خدا تعالیٰ ہے اور نہ ہماری ہی قوتیں اور ہمارے ہی ملکے ہیں بلکہ وہ ان دونوں قسموں سے الگ ایسی مخلوق چیزیں ہیں جو ایک مستقل وجودا اپنا رکھتی ہیں اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الخیر رکھیں گے تو اسی کو ہم روح القدس یا جبرائیل کہیں گے اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الشر رکھیں گے تو اسی کو ہم شیطان اور ابلیس کے نام سے بھی موسوم کریں گے ۔ یہ تو ضرور نہیں کہ ہم روح القدس یا شیطان ہر یک تاریک اور تناسب ہے یہ بھی پسند کیا کہ انسان کی روحانی تربیت بھی اسی نظام اور طریق سے ہو کہ جو جسم کی تربیت میں اختیار کیا گیا تا وہ دونوں نظام ظاہری و باطنی اور روحانی اور جسمانی اپنے تناسب اور یک رنگی کی وجہ سے صانع واحد مدتم ۔ بالا رادہ پر دلالت کریں ۔ پس یہی وجہ ہے کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کیلئے بھی فرشتے وسائط مقرر کئے گئے مگر یہ تمام وسائط خدا تعالی کے ہاتھ میں مجبور اور ایک گل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف ۔ جس طرح ہوا خدا تعالی کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اس کے حکم سے باہر آتی ہے اور اسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے یہی صورت اور نامہ یہی حال فرشتوں کا بے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۔ پنڈت دیا نند نے جو فرشتوں کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے کاش پنڈت صاحب کو خدا تعالیٰ کے نظام پنڈت دیانند ا غلطہ منہمی ہے کہ قرآنی تعلیم میں یہ نقص ہے کہ بلا ثبوت ایک شیطان فرض کر کے اُسی کو انسان کا بہکانے والا قرار دیا ہے