آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 86
روحانی خزائن جلد ۵ ΔΥ آئینہ کمالات اسلام (۸۲) مگر اُس کا یہ انتظام ہرگز نہیں ہے کہ وہ بلا توسط ہمارے قومی اور اجسام پر اثر ڈالتا ہے بلکہ جہاں تک ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور جس قدر ہم اپنے فکر اور ذہن اور سوچ سے ملا یک اور جنات کے وجود کا ثبوت کام لیتے ہیں صریح اور صاف اور بدیہی طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر یک فیضان کیلئے ہم میں اور ہمارے خدا وند کریم میں علل متوسطہ ہیں جن کے توسط سے ہر یک قوت اپنی حاجت کے موافق فیضان پاتی ہے پس اسی دلیل سے ملائک اور جنات کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ خیر اور شر کے اکتساب میں صرف ہمارے ہی قومی کافی نہیں بلکہ خارجی ممدات اور معاونات کی ضرورت ہے جو خارق عادت اثر رکھتے ہوں مگر وہ مُمد اور معاون خدا تعالیٰ براہ راست اور بلا توسط نہیں بلکہ بتوسط بعض اسباب ہے سو قانونِ قدرت کے ملاحظہ نے قطعی اور نہ طبعی نہ طبابت نہ علم نباتات یہ اسباب ہی ہیں جن سے علم پیدا ہوئے ۔ تم سوچ کر دیکھو کہ اگر فرشتوں سے خدمت لینے سے کچھ اعتراض ہے تو وہی اعتراض۔ سورج اور چاند اور کواکب اور نباتات اور جمادات اور عناصر سے خدمت لینے میں پیدا ہوتا ہے ۔ جو شخص معرفت کا کچھ حصہ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ہر یک ذرہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے موافق کام کر رہا ہے اور ایک قطرہ پانی کا جو ہمارے اندر جاتا ہے وہ بھی بغیر اذانِ الہی کے کوئی تاثیر موافق یا مخالف ہمارے بدن پر ڈال نہیں سکتا پس تمام ذرات اور سیارات وغیرہ در حقیقت ایک قسم کے فرشتے ہیں جو دن رات خدمت میں مشغول ہیں کوئی انسان کے جسم کی خدمت میں مشغول ہے اور کوئی روح کی خدمت میں اور جس حکیم مطلق نے انسان کی جسمانی تربیت کیلئے بہت سے اسباب کا توسط پسند کیا اور اپنی طرف سے بہت سے جسمانی مؤثرات پیدا کئے تا انسان کے جسم پر انواع اقسام کے طریقوں سے تاخیر ڈالیں۔ اسی وحدہ لاشریک نے جس کے کاموں میں وحدت